محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
عاقلہ ، بالغہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر مسئلہ(۱۲۹): عاقلہ ، بالغہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر کردینا صحیح نہیں ہے، صحتِ نکاح کے لیے اس کی رضا مندی ضروری ہے۔(۱) ------------------------------ =ادعی التخصیص فعلیہ اثباتہ بالنقل الصریح ۔ (۴/۸۶ ، ۸۷ ، کتاب النکاح ، قبیل مطلب الخصاف کبیر) ما في ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ ‘‘ : وقال الحنفیۃ : حقیقۃ الرضا لیس شرطاً لصحۃ النکاح ، فیصح الزواج ومثلہ الطلاق مع الإکراہ والہزل ، لأن المستکرہ قاصد عقد الزواج ، لکنہ غیر راض بالحکم الذی یترتب علیہ ، فہو مثل الہازل ، والہزل لا یمنع صحۃ الزواج ، لقول النبي ﷺ : ’’ ثلاث جدہن جد، وہزلہن جد : النکاح ، والطلاق ، والرجعۃ ‘‘ ۔ لکن ہذا القیاس یصادم الثابت فی السنۃ ۔ (۹/۶۵۶۷، کتاب النکاح ، الشرط الرابع) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : (صح نکاحہ وطلاقہ وعتقہ) لو بالقول لا بالفعل ۔۔۔۔۔ والأصل عندنا أن کل ما یصح مع الہزل یصح مع الإکراہ ، لأن ما یصح مع الہزل لا یحتمل الفسخ ، وکل ما لا یحتمل الفسخ لا یؤثر فیہ الإکراہ ۔۔۔۔۔۔ والمذکور منہا في عامۃ الکتب عشرۃ نظمہا ابن الہمام بقولہ : ؎ یصح مع الإکراہ عتق ورجعۃ نــکاح وإیلاء طـلاق مفارق وفیـــئ ظہار والیمین ونذرہ وعفو لقتل شاب منہ مفـارق (۹/۱۶۴-۱۶۶، کتاب الإکراہ ، دار الکتاب دیوبند) (فتاوی دارالعلوم : ۸/۸۸-۹۶، فتاوی حقانیہ : ۴/۲۹۹) الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وإذا کان الرضا فی نکاح البالغۃ شرط الجواز فإذا زوجت بغیر إذنہا توقف التزویج علی رضاہا ، فإن رضیت جاز ، وإن ردّت بطل ۔ (۳/۳۵۹ ، کتاب النکاح ، فصل الذي یرجع إلی المولی علیہ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : لا یجوز نکاح أحد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو=