محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مقتضائے عقد اور خلافِ عرف قانون مسئلہ(۳۱۱): اگر حکومتِ وقت قانونی طور پر عقد میں ایسی شرط جاری کرے،جو بظاہر مقتضائے عقد کے خلاف ہو، اور ایسی شرط کا عرف بھی نہ ہو، تو شرعاً اس اجراء شرط کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟ کتبِ فقہ کی روایات عام طور پر اس سوال کے جواب میں خاموش نظر آتی ہیں، البتہ قواعد کی روشنی میں اس کا جواز معلوم ہوتا ہے، بشرطیکہ کوئی ایسی شرط نہ ہو جو ربا کا ذریعہ بنے، اس کے جواز کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں: (۱) بیع میں اس طرح کی شرط لگانے کی علتِ ممانعت یہ ہے کہ؛ یہ شرط باہمی نزاع اور جھگڑے کا باعث بنتی ہے، تو جس طرح کسی عمل کا رَواج پذیر ہونا باہمی نزاع کے لیے ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے، اسی طرح حکومت کا قانون بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔(۱) (۲) فقہ کا ضابطہ ہے کہ جن فروعی مسائل میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو، ان میں حاکمِ وقت جس فقہی مسلک پر فیصلہ کردے، دوسرے مسلک کے آدمی کے لیے بھی اس پر عمل کرنا درست ہوتا ہے، اس ضابطے کو فقہی انداز میں یوں کہا جاتا ہے، حاکم /قاضی کا فیصلہ رافعِ خلاف ہوتا ہے، اور چونکہ مالکیہ اورا مام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے مسلک پر ایسی شرط لگانے کی گنجائش ہے ، لہٰذا اگر حکومتِ وقت ایسی شرائط جاری کرے، تو ان کو اختیار کرنا جائز ہوگا۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : =