محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
منگل اور بدھ کو حجامت بنوانے کو منحوس سمجھنا مسئلہ(۱۲):بہت سے حضرات منگل اور بدھ کے دن حجامت بنوانے کو منحوس سمجھتے ہیں، جب کہ شریعتِ اسلامیہ میں کسی بھی وقت یا دن کے منحوس ہونے کا تصور نہیں ہے، یہ جاہلانہ اور ہندوانہ خیال ہے، متعدد احادیث میں اس خیال کی تردید کی گئی ہے ۔(۱)رات میں قرض دینے کو منحوس سمجھنا مسئلہ(۱۳):بہت سے لوگ رات میں قرض دینے کو منحوس سمجھتے ہیں، جب کہ ایسے خیال کی شرعاً کوئی بنیاد نہیں ہے، بلکہ احادیث میں اس کی تردید آئی ہے۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : ’’ لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر‘‘۔ (۲/۸۵۷) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : عن عبد اللہ بن مسعود عن رسول اللہ ﷺ قال : ’’ الطیرۃ شرک، الطیرۃ شرک ، ثلاثاً، وما منا إلا ولکن اللہ یذہبہ بالتوکل ‘‘ ۔ (ص/۵۴۶) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أنس أن النبي ﷺ قال : ’’ لا عدوی ولا طیرۃ ، ویعجبنی الفال الصالح ، والفال الصالح ؛ الکلمۃ الحسنۃ ‘‘ ۔ (۲/۸۵۷ ، سنن أبي داود:ص/۵۴۶) الحجۃ علی ما قلنا : (۲) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أبی ہریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ قال : ’’ لا عدوی ولا طیرۃ ولا ہامۃ ولا صفر ‘‘ ۔ (۲/۸۵۷) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : عن عبد اللہ بن مسعود عن رسول اللہ ﷺ قال : ’’ الطیرۃ شرک، الطیرۃ شرک ثلاثاً ، وما منا إلا ولکن اللہ یذہبہ بالتوکل ‘‘ ۔ (ص/۵۴۶) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أنس أن النبي ﷺ قال : ’’ لا عدوی ولا طیرۃ ، ویعجبنی الفال الصالح ، والفال الصالح ؛ الکلمۃ الحسنۃ ‘‘ ۔ (۲/۸۵۷ ، سنن أبي داود:ص/۵۴۶)