محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
شپمنٹ کے ذریعہ سامان کی منتقلی مسئلہ(۲۱۶): شپمنٹ یعنی سامان کو جہاز کے ذریعہ امپورٹر کی طرف منتقل کرنے کے تین طریقے ہیں: (۱)’’ F.O.B‘‘ (۲)’’C.F‘‘ (۳)’’C.I.F‘‘ پہلے طریقے میں ’’ایکسپورٹر‘‘ کی صرف یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سامان جہاز پر روانہ کرادے، آگے اس کا کرایہ اور دوسرے مصارف خود ’’امپورٹر‘‘ ادا کرتا ہے۔ اس صورت میں ’’شپنگ کمپنی‘‘ امپورٹر کی ایجنٹ ہوتی ہے، لہٰذا جس وقت شپنگ کمپنی اس سامان کی ڈیلیوری (قبضہ) لے گی، تو اس کا قبضہ ’’امپورٹر‘‘ کا قبضہ سمجھا جائے گا، اور اس سامان کا ’’رِسک‘‘ (ضمان) اسی وقت امپورٹر (خریدار) کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ اگر دوسرے طریقے یعنی C.Fکے طریقے سے مال روانہ کیا تو اس صورت میں اس سامان کو بھیجنے کا کرایہ ’’ایکسپورٹر‘‘ (بائع) اداکرتا ہے۔ اس صورت میں تاجروں کے درمیان تو موجودہ ’’عرف‘‘ یہ ہے کہ C.Fکی صورت میں بھی ’’شپنگ کمپنی‘‘ کو امپورٹر (خریدار) ہی کا ایجنٹ سمجھا جاتا ہے۔ اور اس ’’عرف‘‘ میں شرعاً کوئی حرج نہیں، یعنی اس دوسرے طریقے میں بھی جب کہ کرایہ ------------------------------ =ما في ’’ المقاصد الشرعیۃ للخادمي ‘‘ : إن الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرماً ، وتکون واجبۃً إذا کان المقصد واجباً ۔ (ص/۴۶) (فتاوی حقانیہ :۶/۴۶) ما في ’’ جمہرۃ القواعد الفقہیۃ ‘‘ : ’’ الإعانۃ علی محظور محظور ‘‘ ۔ (۲/۶۴۴)