محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
شیئرز میں ڈیفرینس برابر کرنا مسئلہ(۴۰۱): شیئرز کی ایسی بیع وشراء کہ جس میں صرف فرق (Difference) برابر کرنا مقصود ہو، شیئرز لینا دینا مقصود نہ ہو، جیسا کہ آج کل اسٹاک ایکسچینج کمپنی میں ایک بہت بڑا کاروبار اسی قسم کا ہوتا ہے، اس میں شیئرز لینا دینا مقصود نہیں ہوتا ہے، اور نہ ہی شیئرز پر قبضہ ہوتا ہے، اور نہ قبضہ پیش نظر ہوتا ہے،بلکہ آخر میں جاکر آپس کا فرق (Difference) برابر کرلیا جاتا ہے، مثلاً یکم جنوری کو ،۳۰ مارچ کی تاریخ کے لیے غائب سودا کیا گیا، اور فی شیئرز دس روپئے قیمت مقرر ہوئی، لیکن جب ۳۰ مارچ کی تاریخ آئی ، تو شیئرز کی قیمت بڑھ کر بارہ روپئے ہوگئی، اب بائع خریدار کو شیئرز دینے کے بجائے دو روپئے فی شیئرز ادا کرتا ہے، یا اگر قیمت گھٹ کر آٹھ روپئے رہ گئی، تو خریدار بجائے اس کے کہ بائع کو دس روپئے دے کر اس سے شیئرز وصول کرے، اسے فی شیئرز دو روپئے دیتاہے، اس طرح سے بائع اور خریدار آپس کے فرق کو برابر کرلیتے ہیں، یہ قمار وسٹہ ہے، جو حرام ہے، شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔(۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {یٰٓاَیہا الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون} ۔ (سورۃ المائدۃ : ۹۰) ما في ’’ أحکام القرآن للجصاص ‘‘ : وقال قوم من أہل العلم : ’’ القمار کلہ من المیسر ‘‘ ۔ وأصلہ من تیسیر أمر الجزور بالاجتماع علی القمار فیہ ، وہو السہام التي یُجیلونہا ، فمن خرج سہمہ استحق منہ ما توجبہ علامۃ السہم ، فربما أخفق بعضہم حتی لا یحظی بشيء وینجح البعض فیحظی بالسہم الوافر ، وحقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ ، وہو أصل في بطلان عقود التملیکات الواقعۃ علی الأخطار ۔ (۲/۵۸۲، باب تحریم الخمر)=