محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مستقبل کی تاریخ پر خریدو فروخت مسئلہ(۲۹۱): مستقبل کی تاریخ پر خریدو فروخت کرنے کو ’’عقود المستقبلیات‘‘ (Future Sale)کہتے ہیں، ’’ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا ‘‘ میں اس کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : Commercial Contracts Calling for the purchase or sale of specilied guantities of commodities at specified future dates . ترجمہ : ’’یہ وہ عقد تجارت ہے، جس کا مقصد کسی چیز کی معین مقدار کو مستقبل کی کسی معین تاریخ میں بیچنا یا خریدنا ہوتا ہے ‘‘۔اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ مستقبلیات کی بیع ناجائز ہے، اس کے ناجائز ہونے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ غیر مملوک چیز کی بیع ہوتی ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں قبضہ سے پہلے آگے بیع کردی جاتی ہے، جب کہ غیر مملوک وغیر مقبوض کی بیع شرعاً ناجائز ہے۔(۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن حکیم بن حزام قال : أتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت : یأتیني الرجل یسألني من البیع ما لیس عندي أبتاع لہ من السوق ثم أبیعہ ؟ قال : ’’ لا تبع ما لیس عندک ‘‘ ۔ (۳/۵۳۴ ، کراہیۃ بیع ما لیس عندک ، رقم : ۱۲۳۲، دار احیاء التراث) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : شرط انعقاد البیع أن یکون المبیع مملوکًا للبائع عند البیع ، فإن لم یکن لا ینعقد ۔ (۵/۱۴۷، کتاب البیوع) ما في ’’ صحیح مسلم ‘‘ : عن ابن عباس ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ’’ من ابتاع طعاماً فلا یبعہ حتی یستوفیہ ‘‘ ۔ قال ابن عباس : وأحسب کل شيء مثلہ ۔ (۵/۷ ، کتاب البیوع ، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض ، رقم : ۹۳۱۳، دار الجیل بیروت ، دار الآفاق الجدیدۃ =