محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مضارب کو وقتِ معین تک خریداری کا پابند کرنا مسئلہ(۴۰۹): رب المال مضارب کو ایک لاکھ روپیہ دے، اور یہ شرط لگائے کہ ایک سال کے بعد نئی خریداری مت کرنا، تو اس طرح کی شرط لگانا؛ ائمۂ ثلاثہ کے اقوال اور مضاربت کی حقیقت پر غور کرتے ہوئے جائز ہونا ہی راجح معلوم ہوتا ہے، لہٰذا یہ صورت جائز ہونی چاہیے، یعنی رب المال وقت معین کے بعد مضارِب کی نئی خریداری پر پابندی لگا سکتا ہے(۱)، البتہ مالکیہ کے نزدیک اس طرح کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ الإنصاف ‘‘ : وإن شرط تاقیت المضاربۃ فہل تفسد ؟ علی الروایتین : إحداہما لا تفسد ، وہو الصحیح من المذہب ، والروایۃ الثانیۃ تفسد ، وإن قال : لا تبع بعد سنۃ بطل العقد ، وإن قال : لا تبتع بعدہا صح ۔ (۵/۳۱۸ ، کتاب الشرکۃ ، بیروت) ما في ’’ التہذیب في فقہ الإمام الشافعي ‘‘ : أما إذا قال : علی أنک بعد مضي السنۃ لا تشتري ولک أن تبیع فہذا جائز ، لأن مقتضی القراض أن رب المال یملک منع العامل من الشراء متی شاء ، ولا یملک منعہ من البیع لینص المال ۔ (۴/۳۸۳ ، بحوالہ مالی معاملات پر غرر کے اثرات) ما في ’’ المغني ‘‘ : قال أبو الخطاب : في صحۃ شرط التاقیت روایتان : إحداہما : ہو صحیح وہو قول أبي حنیفۃ ۔ (۵/۱۸۵، جواز التاقیت في المضاربۃ) (۲) ما في ’’ عقد الجواہر الثمینۃ ‘‘ : ولو ضیق بالتاقیت إلی السنۃ مثلاً ومنع عن التصرف بعدہا فہو فاسد ، مثل أن یقول : قارضتک سنۃ ۔ (۲/۷۹۵ ، بحوالہ مالی معاملات پر غرر کے اثرات:ص/۲۲۶)