محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
کفالت کی اضافت مدتِ غیر متعینہ کی طرف مسئلہ(۴۸۳): اگر کوئی شخص عقدِ کفالہ کی اضافت مستقبل کی ایسی مدت کی طرف کرے ، جس کا پایا جانا غیر یقینی ہو،جیسے بارش کا برسنا، تو یہ اضافت باطل ہوجائے گی، اور حق کی ادائیگی فوراً لازم ہوجائے گی، اور اگر وہ مدت یقینی ہوتو ایسی صورت میں کفالہ کا معاملہ بھی صحیح ہے، اور اس مدت کے آنے پر ادائیگی بھی لازم ہوجائے گی۔(۱)مکفول لہ کی جہالت مسئلہ(۴۸۴): مکفول لہ کی جہالتِ فاحشہ عقد کفالہ کو فاسد قرار دیتی ہے، جیسے کہ اگر کوئی شخص کسی سے عقد کفالہ اس طرح کرے کہ جس شخص کا بھی تجھ پر قرض ہے، میں تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوں، تو یہ عقد کفالہ جہالتِ فاحشہ کی بنا پرشرعاً صحیح نہیں ہے ۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ التنویر مع الدر والرد ‘‘ : تصح لو علقت بشرط صریح ملائم أی موافق للکفالۃ بأحد أمور الثلاثۃ ، بکونہ شرط للزوم الحق ۔۔۔۔۔ أو شرطاً لإمکان الاستیفاء نحو ان قدم زید فعلی ما علیہ من الدین ۔۔۔۔۔ وہو مکفول عنہ أو شرطاً لتعذرہ أی الاستیفاء نحو إن غاب زید عن المصر فعلي وأمثلتہ کثیرۃ ، فہذہ جملۃ الشروط التی یجوز تعلیق الکفالۃ بہا ولا تصح إن علقت بغیر ملائم نحو إن ہبت الریح أو جاء المطر لأنہ تعلیق بالخطر ۔ (۸/۴۵۷ ، مطلب فی تعلیق الکفالۃ بشرط غیر ملائم ، البحر الرائق : ۶/۳۷۰ ، کتاب الکفالۃ) (مالی معاملات پر غرر کے اثرات:ص/۲۹۷) (۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {ولمن جآء بہ حمل بعیر وأنا بہ زعیم} ۔ ( یوسف:۷۲) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہ : ’’ فمن تُوُفِّيَ من المؤمنین=