محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
کنٹرول (راشن) کا مال بلیک میں فروخت کرنا مسئلہ(۲۳۶): راشن دکان میں جو مال فروختگی کے لیے آتا ہے، دکاندار حکومت کو اس کی قیمت دے کر خریدتا ہے، لہٰذا وہ اس کی ملک ہے، اس لیے وہ جس قیمت پر بھی اسے فروخت کرے، اس کی یہ بیع درست ہے(۱)، لیکن حکومت چوں کہ راشن ڈیلر کو اپنا کچھ نقصان برداشت کرکے کم قیمت پر یہ مال فراہم کرتی ہے، اور ڈیلر کو اصولی طور پر اس بات کا پابند بناتی ہے کہ راشن کارڈ ہولڈروں کو کم قیمت پر ہی یہ مال فراہم کیا جائے، لہٰذا راشن دکان کے مالکان پر بھی اِس کی رعایت کرنا واجب ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور بلیک میں یہ مال زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں، تو اُن کا یہ عمل مکروہ ہے، اور جو لوگ واقف ہوں کہ یہ دکاندار غریبوں کا حق مار کر، اُن کے ہاتھ اس مال کو بلیک میں بیچ رہا ہے، تو ان کے لیے اس مال کا خریدنا بھی مکروہ ہے(۲)، البتہ چوں کہ خریداروں نے قیمت دے کر اس مال کو خریدا ہے، اس لیے اُن کو حرام کھانے والا نہیں سمجھا جائے گا، اور نہ اُن پر حرام کھانے کاگناہ ہوگا، لیکن ایک غلط کام میں تعاوُن کا گناہ ضرور ہوگا۔(۳) ------------------------------ =ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (وعلتہ) أي علۃ تحریم الزیادۃ (القدر مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) أي الزیادۃ (والنساء) ۔ (۷/۳۰۵ ، کتاب البیوع ، مطلب في الإبراء عن الربا ، تبیین الحقائق : ۴/۴۵۴ ، باب الربا ، البحر الرائق : ۶/۲۱۳، باب الربا) ما في ’’ مجمع الأنہر ‘‘ : (فإن وجد الوصفان) أي الکیل أو الوزن مع الجنس حرم الفضل والنساء ۔ (۳/۱۲۱ ، کتاب البیوع ، باب الربا ، کذا في الہدایۃ : ۳/۷۹ ، باب الربا) (احسن الفتاویٰ :۶/۵۲۰، جدید مسائل کا حل:ص/۲۶۴) الحجۃ علی ما قلنا :=