محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
روزہ رکھنے سے قریب المرگ ہوجانا مسئلہ(۸۹): اگر کوئی شخص روزہ رکھنے سے اس قدر بیمار ہوجاتا ہے کہ قریب المرگ ہوجاتا ہے اور روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہوتا، اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہتا ہے، تو ایسا شخص مریض کے حکم میں ہے(۱)، اور شریعت نے مریض کو رخصتِ افطار دی ہے(۲)، لہٰذا اگر وہ اس طرح کا مریض ہے کہ بعد میں قضا پر قادر نہیں ہوسکتا تو اس پر فدیہ لازم ہوگا(۳)، اور اگر فدیہ اداکر نے کے بعد قضا پر قادر ہوجائے، تو فدیہ کا حکم باطل ہوجائے گا، اور فوت شدہ روزوں کی قضا لازم ہوگی۔(۴) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘: والصحیح الذي یخشی أن یمرض بالصوم فہو کالمریض ، ومرادہ بالخشیۃ غلبۃ الظن کما أراد المصنف بالخوف إیاہا ۔ (۲/۴۹۲ ، کتاب الصوم ، فصل في العوارض) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قولہ : وصحیح خاف المریض أي بغلبۃ الظن ۔ (۳/۳۶۰ ، کتاب الصوم ، فصل في العوارض ، الفتاوی الہندیۃ : ۱/۲۰۷ ، الباب الخامس في الأعذار التي الخ) (۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {ومن کان مریضاً أو علی سفر فعدّۃ من أیام أخر} ۔ (سورۃ البقرۃ : ۱۸۵) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : المریض إذا خاف علی نفسہ التلف أو ذہاب عضو یفطر بالإجماع ، وإن خاف زیادۃ العلۃ وامتدادہ فکذلک عندنا ، وعلیہ القضاء إذا أفطر ۔ (۱/۲۰۷ ، کتاب الصوم ، الباب الخامس في الأعذار) (۳) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین} ۔ (البقرۃ : ۱۸۴) ما في ’’ التفسیر المنیر ‘‘ : وأجمع العلماء علی أن الواجب علی الشیخ الہرم الفدیۃ ، =