محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
گڑیوں کا استعمال اور تجارت مسئلہ(۳۰۸): کسی بھی جاندار چیز کی تصویر بنانا اور اس کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح بچوں کے کھیلنے کی وہ گڑیا یا کھلونے وغیرہ، جو جاندار کی شکل وصورت میں بنائے جاتے ہیں، ان کا استعمال کرنا یا ان کا کاروبار کرنا بھی جائز نہیں ہے۔(۱) ------------------------------ (۱) ما في ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘ : عن سعید بن أبي الحسن قال : کنت عند ابن عباس إذ جاء رجل فقال : یا ابن عباس ! إني رجل إنما معیشتي من صنعۃ یدي ، وإنی أصنع ہذہ التصاویر ، فقال ابن عباس : لا أحدثک إلا ما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سمعتہ یقول : ’’من صور صورۃً فإن اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیہ الروح ، ولیس بنافخ فیہا أبدا ‘‘ ۔ فربا الرجل ربوۃ شدیدۃً واصفرّ وجہہ فقال : ’’ ویحک إن أبیت إلا أن تصنع ، فعلیک بہذ الشجر ، وکل شيء لیس فیہ روح ‘‘ ۔ رواہ البخاري ۔ (ص/۳۸۶ ، اللباس ، باب التصاویر) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : وظاہر کلام النووي فی ’’ شرح مسلم ‘‘ الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان ، وقال : وسواء صنعہ لما یمتہن أو لغیرہ ، فصنعتہ حرام بکل حال ، لأن فیہ مضاہاۃ لخلق اللّٰہ تعالی ، وسواء کان في ثوب أو بساط أو درہم وإناء وحائط وغیرہا ۔ (۲/۳۶۰ ، مطلب إذا تردّد الحکم بین سنۃ وبدعۃ) ما في ’’ النہر الفائق ‘‘ : (أو) تکون الصورۃ (لغیر ذي روح) لما مر عن ابن عباس ولا فرق في الشجر بین المثمر وغیرہ في قول الکافي خلافاً لمجاہد وجوز في ’’ الخلاصۃ ‘‘ لمن رأی صورۃ في بیت غیرہ أن یزیلہا ویجب علیہ ، ولو استأجر مصورا فلا أجر لہ لأن عملہ معصیۃ کذا عن محمد ۔ (۱/۲۸۳-۲۸۵، ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا ، فتاوی معاصرۃ: ص/۴۱۱ ، للشیخ صالح بن محمد العثیمین) (فتاوی محمودیہ:۱۹/۵۰۳،کراچی، جدید مسائل کا حل:ص/۴۵۵و۴۷۴)