محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
عقد شرکت میں منافع کی تقسیم مسئلہ(۳۹۲): دو افراد نے بطورِ شرکتِ عنان کے کوئی کاروبار شروع کیا، اور بوقتِ عقدِ شرکت یہ طے کیا کہ کام دونوں کریں گے، اور حاصل شدہ منافع میں سے ایک تہائی ایک شریک، اور دو تہائی دوسرے شریک کو ملے گا ، تو یہ صورت جائز ہے، کیوں کہ اس طرح تقسیمِ منافع کی شرط لگانے سے افضاء الی النزاع (شریکوں کے مابین جھگڑے) کا اندیشہ نہیں رہتا ہے، البتہ کاروبار میں نقصان کی صورت میں دونوں اپنے مال کے تناسب سے نقصان میں شریک ہوں گے۔(۱)عقد شرکت میں تقسیمِ نفع کے وقت خاموشی مسئلہ(۳۹۳): عقدِ شرکت میں شرکاء تقسیمِ نفع کے متعلق خاموشی اختیار کریں، نفع کے تناسب کا تذکرہ نہ کریں، تو اس صورت میں شرکاء کے مابین منافع رأس المال کے مطابق تقسیم ہوں گے، اگر رأس المال تمام شرکاء کا برابر ہو، تو نفع بھی برابر ہوگا، ورنہ رأس المال کی کمی بیشی کی صورت میں نفع بھی کم وبیش ہوگا۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : إذا شرطا الربح علی قدر المالین ؛ متساویا أو متفاضلا ، فلا شک أنہ یجوز ویکون الربح بینہما علی الشرط ، سواء شرطا العمل علیہما أو علی أحدہما ، والوضیعۃ علی قدر المالین متساویا ومتفاضلا ؛ لأن الوضیعۃ اسم لجزء ہالک من المال فیتقدر بقدر المال ۔ (۷/۵۱۷، کتاب الشرکۃ ، فصل في شروط جواز ہذہ الأنواع ، بیروت) (قاموس الفقہ: ۴/۱۹۱) الحجۃ علی ما قلنا : =