محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
اووَر ٹائم (Overtime)میں صرف حاضری مسئلہ(۴۲۴): ایک شخص اوور ٹائم (Overtime)تو دیتا ہے، لیکن اس میں کام نہیں کرتا ہے، بلکہ یونہی فضول گزار دیتا ہے، کیوں کہ کوئی نگرانی کرنے والا نہیں ہوتا ہے، اگر اس شخص کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہے، تو اجیرِ خاص اجرت کا مستحق اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ مفوّضہ امر (سپرد کیے گئے کام) کو پورا کرے، اور اگر وہ مفوضہ امر پورا کرنے سے باز رہے ،تو اجرت کا مستحق نہیں ہوتا ہے، کیوں کہ اس صورت میں محض تسلیمِ نفس سے استحقاقِ اجرت ثابت نہیں ہوگا، لہٰذا اس کے لیے اوور ٹائم (Overtime)کی اضافی اجرت لینا شرعاً درست نہیں ہے۔(۱) ------------------------------ =(۴) ما في ’’ مسند أحمد بن حنبل ‘‘ : عن عمرو بن یثربي قال : خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ألا ! ولا یحل لإمرئ من مال أخیہ شيء إلا بطیب نفس منہ ‘‘ ۔ (۵/۱۱۳، کتاب البیوع ، رقم : ۲۱۱۱۹ ، ۲۱۱۲۰ ، مؤسسۃ قرطبۃ القاہرۃ) (۵) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : وتصح إجارۃ أرض للبناء والغرس ، فإن مضت المدۃ قلعہما وسلمہا فارغۃ لعدم نہایتہا إلا أن یغرم لہ الموجر قیمتہ أی البناء والغرس مقلوعاً ، بأن تقوم الأرض بہما وبدونہما فیضمن ما بینہما ویتملکہ ۔۔۔۔۔۔ فأفاد أنہ لا یلزمہ القلع لو رضی المؤجر بدفع القیمۃ ۔ (۹/۳۶ ، ما یجوز من الإجارۃ وما یکون خلافاً فیہا) (۶) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن أبي سلمۃ بن عبد الرحمٰن کانت بینہ وبین أناس خصومۃ في أرضٍ ، فدخل علی عائشۃ فذکر لہا ذلک ، فقالت : یا أبا سلمۃ ! اجْتنب الأرض، فإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ’’ من ظلم قِیدَ شِبرٍ من الأرض طُوِّقَہ من سبع أرضین ‘‘ ۔ (۱/۴۵۳ ، کتاب بدء الخلق ، باب ما جاء فی سبع أرضین ، رقم : ۳۱۹۵) (۷) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : اعلم أن أسباب الملک ثلاثۃ : ناقل کبیع وہبۃ وخلافۃ کارث ، واصالۃ وہو الاستیلاء حقیقۃ بموضع الید ، أو حکماً بالتہیئۃ کنصب شبکۃ الصید ۔ (۱۰/۴۶ ، کتاب الصید) (فتاوی محمودیہ: ۱۶/۶۳۵،۶۳۶،کراچی)=