محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
بیع الحصاۃ(کنکر پھینک کر خرید وفروخت) مسئلہ(۲۰۲): ’’بیع الحصاۃ‘‘ جسے ’’بیع بالقاء الحجر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کی تعریف یہ ہے کہ متعاقدین آپس میں کسی چیز کا بھاؤ لگا رہے ہوں کہ اچانک خریدار اس پر ایک پتھر رکھ دے، جس کے نتیجے میں یہ بیع لازم ہوجائے(۱)، ائمۂ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس طرح کی بیع ناجائز ہے، احادیث میں بھی اس کی صریح ممانعت موجود ہے۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : والملامسۃ وإلقاء الحجر ۔۔۔۔۔ وہو أن یتراوض الرجلان علی سلعۃ أي یتساوي فإذا لمسہا المشتری أو نبذہا إلیہ البائع أو وضع المشتري علیہا حصاۃ لزم البیع رضي البائع أو لم یرض ۔ (۶/۱۲۵، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد) (۲) ما في ’’ صحیح مسلم ‘‘ : عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ قال : ’’ نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر ‘‘ ۔ (۲/۲، باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذي فیہ غرر) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالی عنہ : أن النبي ﷺ نہی عن بیع الغرر ‘‘ ۔ زاد عثمان : والحصاۃِ ۔ (۳/۲۶۲ ، باب في بیع الغرر ، رقم : ۳۳۷۸ ، دار الکتاب العربي بیروت ، مسند أحمد بن حنبل :۲/۳۷۶ ، رقم : ۸۸۷۱ ، مسند أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ ، مؤسسۃ قرطبۃ القاہرۃ) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : والملامسۃ والقاء الحجر ومثلہا المنابذۃ وہذہ بیوع کانت في الجاہلیۃ فنہی عنہا ۔ (۶/۱۲۵)