محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مالِ حرام کا حکم مسئلہ(۳۲۵): مالِ حرام کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو،تو اس کو پہنچادے، اور اگر معلوم نہ ہو تو اصل مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت سے غرباء و فقراء کو دیدی جائے، اگر غرباء وفقراء میں اپنے اعزا واقارب ہوں، تو انہیں بھی دے سکتے ہیں،اب وہ اس رقم کو اپنی ضرورتوں میں استعمال کرسکتے ہیں۔(۱) ------------------------------ =والقمار ۔۔۔۔۔ فالباطل ما یخالف الشرع ۔ وقال ابن عباس ، والحسن البصري : ہو أن یأکل بغیر عوض ، فالباطل ما یؤخذ بغیر عوض ۔۔۔۔۔ فمن باع بیعاً فاسداً أو أخذ ثمنہ کان ثمنہ حراماً خبیثاً ، وعلیہ ردہ ۔ (۳/۳۲ ، ۳۳) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والسبیل في المعاصي ردّہا ، وذلک ہہنا بردّ المأخوذ إن تمکن ردّہ ، بأن عرف صاحبہ ، وبالتصدق بہ إن لم یعرفہ ، لیصل إلیہ نفع مالہ إن کان لا یصل إلیہ عین مالہ ۔ (۵/۳۴۹ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب الخامس عشر في الکسب ، العرف الشذي :۱/۳۵ ، کتاب الطہارۃ ، باب ما جاء لا تقبل الصلاۃ بغیر طہور ، رد المحتار: ۹/۴۷۰ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع) (جدید مسائل کا حل :ص/۴۴۰، آپ کے مسائل اور ان کا حل :۶/۲۴۰،قدیم) الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ الجامع لأحکام القرآن للقرطبي ‘‘ : قلت : قال علمائنا : إن سبیل التوبۃ مما بیدہ من الأموال الحرام إن کانت من ربا فلیردّہا علی من أربی علیہ ، ویطلبہ إن لم یکن فإن أیس من وجودہ فلیتصدّق بذلک عنہ ۔ (۳/۳۶۶) ما في ’’ معارف السنن ‘‘ : قال شیخنا : ویستفاد من کتب فقہائنا کالہدایۃ وغیرہا أن من ملک بملک خبیث ، ولم یمکنہ الرد إلی المالک ، فسبیلہ التصدق علی الفقراء ، قال : إن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغ ذمتہ ، ولا یرجو بہ المثوبۃ ۔ (۱/۳۴) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیہم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل لہ ، ویتصدّق بہ بنیۃ صاحبہ ۔ (۷/۲۲۳ ، مطلب فیمن ورث مالاً حراماً)=