محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
شئ معدوم کو رہن رکھنا مسئلہ(۵۱۷): رہن کی شرائط میں سے ہے کہ شئ مرہونہ بوقتِ عقد موجود اور مقدور التسلیم ہو، معدوم نہ ہو، جیسے یوں کہنا: میری بکری جو بچہ جنے گی میں اسے رہن رکھتا ہوں، یا یوں کہنا: میرے درخت پر اس سال جو پھل آئے گا وہ رہن رکھتا ہوں، ان صورتوں میں رہن کی شرائط مفقود ہیں، اس لیے رہن کا یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہے۔ (۱) ------------------------------ =من الرہن ہو توثیق الدین ، وقد أجازت الشریعۃ لحصول ہذا المقصود أن یحبس الدائن ملک المدیون ویمنعہ عن التصرف فیہ إلی أن یتم تسدید الدین ، فإن رضي الدائن بحصول مقصودہ بأقل من ذلک وہو أن یبقی العین المرہونۃ بید الراہن ، ویبقی للمرتہن حق الاستیفاء فقط ، فلا یری في ذلک أي محظور شرعي ۔ (ص/۱۴- ۱۶، الرہن السائل ، أحکام البیع بالتقسیط ، مکتبہ وحیدیہ دہلي) (انعام الباری: ۷/۸۲۰، اسلام اور جدید معاشی مسائل : ۳/۱۰۰، مالی معاملات پر غرر کے اثرات : ص/۲۶۵) الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وأما الذي یرجع إلی المرہون فأنواع : منہا أن یکون محلاً قابلاً للبیع ، وہو أن یکون موجوداً وقت العقد مالاً ، مطلقاً ، متقوماً ، مملوکاً ، معلوماً ، مقدور التسلیم ؛ ونحو ذلک ، فلا یجوز رہن ما لیس بموجود عند العقد ، ولا رہن ما یحتمل الوجود والعدم ، کما إذا رہن ما یثمر نخیلہ العام ، أو ما تلد أغنامہ السنۃ أو ما في بطن ہذہ الجاریۃ ونحو ذلک ۔ (۸/۱۴۱، کتاب الرہن ، بیروت) ما في ’’ الفقہ الإسلامي وأدلتہ ‘‘ : فلا یجوز رہن ما لیس بموجود عند العقد ولا رہن ما یحتمل الوجود والعدم ، کما لو رہن ما یثمر شجرۃ ہذا العام ، أو تلد أغنامہ ہذہ السنۃ ، أو رہن الطیر الطائر والحیوان الشارد ، ونحوہ مما لا یتأتی في استیفاء الدین منہ ولا یمکن بیعہ ۔ (۶/۴۲۳۱ ، الفصل الثاني عشر، الرہن ، المطلب الرابع ، شروط المال المرہون ، الفتاوی الہندیۃ : ۵/۴۳۲ ، الرہن)