محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
قوتِ تولید کے ختم ہونے پر فسخِ نکاح مسئلہ(۱۸۶): اگر کسی شخص نے نس بندی کرالی ، جس کی وجہ سے اس کی قوتِ تولید ختم ہوگئی، مگر وہ جماع پر قادر ہے، تو اس صورت میں عورت کو فسخ نکاح کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوگا، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:’’ اگر مرد کا پانی (منی) نہ ہو، وہ جماع کرتا ہو مگر انزال نہ ہوتا ہو، تو عورت کو خصومت کا حق حاصل نہیں ہے۔‘‘(۱)فسخ نکاح کی ایک صورت مسئلہ(۱۸۷): کسی خاتون کا شوہربیرون ملک چلا جائے ، ایک طویل عرصے تک اس کا کوئی پتہ نہ چلے کہ آیا وہ زندہ ہے یا مردہ، نہ خط سے ، نہ کسی اور ذریعے سے، اور عورت کے گھر والے یہ سوچ کرکہ شوہر کا انتقال ہوگیا ، اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کردے،تو محض عورت ،یا اس کے گھر والوں کے یہ سوچ لینے سے کہ؛ ’’پہلا شوہر مرگیا ہوگا‘‘، اُس شخص کی موت ثابت نہیں ہوگی، اور یہ عورت بدستور اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہی رہے گی، دوسرا نکاح ناجائز ہوگا، اس کے باوجود اگر دوسرا نکاح کردیا گیا ، تو مرد وعورت دونوں کو فوراً علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے۔ اگر عورت شوہرِ اول سے نکاح کو فسخ کرانا چاہتی ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ عدالت میں اس بات کو ثابت کرے کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا، پھرگواہوں کے ذریعے سے شوہر کا مفقود الخبر اور لاپتہ ہونا ثابت کرے، بعد ازاں خود قاضی بھی اپنے ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘: لو لم یکن لہ ماء ویجامع فلا ینزل لا یکون لہا حق الخصومۃ۔ (۱/۵۲۵) (فتاوی رحیمیہ :۸/۳۸۱، فتاوی حقانیہ :۴/۵۳۲)