محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
قرض کے ذریعہ عقد مضاربت مسئلہ(۴۱۷): ایک شخص کے کسی دوسرے پر کچھ روپئے قرض ہیں، اگر وہ اس مقروض سے کہے : اس قرض کو سرمایہ قرار دے کر اس سے تجارت کرو، اور جو نفع ملے گا اس میں میرا اتنا فیصد (Percent) ہوگا، شرعاً اس طرح کا معاملہ کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ صحتِ مضاربت کی چند شرطیں ہیں: (۱)عاقدین (رب المال اور مضارِب)میں اہلیتِ توکیل ووکیل کا ہونا۔(۱) (۲)سرمایہ کا روپیوں کی شکل میں ہونا۔(۲) (۳) سرمایہ کا معلوم ہونا۔(۳) (۴)سرمایہ کا عین ہونا نہ کہ دَین(قرض)۔(۴) (۵)نفع میں دونوں کا برابر کا شریک ہونا۔(۵) (۶)نفع کا معلوم ہونا۔(۶) عقدِ مضاربت کی مذکورہ بالا صورت میں چوتھی شرط مفقود ہے ، اس لیے یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہے۔ ------------------------------ =(۶/۸۵ ، فصل وأما شرائط الرکن فبعضہا یرجع إلی العاقدین) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : ومنہا أن یکون نصب المضارب من الربح معلوماً علی وجہ لا تنقطع بہ الشرکۃ في الربح ۔ کذا في المحیط ۔ فإن قال علی أن ذلک من الربح مائۃ درہم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرۃ دراہم لا تصح المضاربۃ ۔ کذا فی محیط السرخسي ۔ (۴/۲۸۷، کتاب المضاربۃ ، الباب الأول) ما في ’’ الجوہرۃ النیرۃ ‘‘ : قولہ: (ومن شرطہا أن یکون الربح بینہما مشاعاً لا یستحق أحدہما منہ دراہم مسماۃ) لأن شرط ذلک یقطع الشرکۃ لجواز أن لا یحصل من الربح إلا تلک الدراہم المسماۃ ۔ (۱/۶۲۶، کتاب المضاربۃ) (مالی معاملات پر غرر کے اثرات:ص/۲۲۲)=