محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
نائب امام تنخواہ کا حقدار ہوگا ؟ مسئلہ(۷۴): کسی مسجد کے امام کو کہیں جانے کی ضرورت پیش آئی، تو وہ اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے، کیوں کہ امامت اور تدریس میں نائب بنانا جائز ہے، مگر اجرت کا مستحق اصل امام اور اصل مدرس ہوگا، البتہ اصل نے نائب کے لیے کوئی اجرت مقرر کی ہو، تو وہ نائب اس کا مستحق ہوگا، اور اگر اجرت مقرر نہیں کی ہے تو وہ اَجرِ مثل ،یعنی عامۃً اس طرح کی منفعت کی جو اجرت ہوتی ہے کا مستحق ہوگا۔(۱) ------------------------------ =بیتہ ۔ (۴/۳۹۸ ، کتاب الوقف) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : الأصح عدم جواز أخذ الجمد إلی بیتہ لأن الجمد لتبرید ماء السقایۃ لا للأخذ ۔ (۵/۴۲۷ ، کتاب الوقف) (۳) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : شرط الواقف کنص الشارع - أي فی المفہوم والدلالۃ ۔ در مختار ۔ (۵/۵۰۷ ، کتاب الوقف ، مطلب استأجر داراً فیہا أشجار) (فتاوی محمودیہ: ۱۴/۶۲۴، کراچی، نظام الفتاوی: ۴/۲۳۸) والحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قال في البحر : وحاصل ما فی القنیۃ : أن النائب لا یستحق شیئاً من الوقف ، لأن الاستحقاق بالقریر ولم یوجد ، ویستحق الأصیل الکل إن عمل أکثر السنۃ ، وسکت عما یعینہ الأصیل للنائب کل شہر فی مقابلۃ عملہ ، والظاہر أنہ یستحق لأنہا إجارۃ، وقد وفي العمل بناء علی قول المتأخرین المفتی بہ من جواز الاستیجار علی الإمامۃ والتدریس وتعلیم القرآن ۔ (۶/۴۹۴ ، مطلب مہم في الاستنابۃ في الوظائف ، دار الکتاب دیوبند ، البحر الرائق :۵/۳۸۵ ،۳۸۶ ، کتاب الوقف) (احسن الفتاوی: ۷/۲۸۵)