محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
منکوحہ کے نام میں شوہر کو اشتباہ ہوگیا مسئلہ(۱۲۷): ایک شخص کا نکاح پڑھایا جارہا تھا، نکاح کا وکیل کچھ ناک میں بولا کرتا تھا، جب اس نے منکوحہ کا نام لیا تو صاف سمجھ میں نہ آیا، دولہا اشتباہ میں پڑگیا کہ دو تین بہنوں میں سے اس وکیل نے کس کا نام لیا ہے، لیکن یہ سوچ کرکہ یہ شخص جس کا وکیل بن کر آیا مجھے وہی لڑکی قبول ہے، اس لیے نام کی لفظی تصحیح کیے بغیر ہی قبول کرلیا، تو ایسی صورت میں اگر شوہر کو پہلے سے ہی علم تھا کہ میرا نکاح فلاں لڑکی سے ہوگا، مگر عقدِ نکاح کے وقت وکیل کے ناک سے بولنے کی وجہ سے اسے منکوحہ کا نام صاف سمجھ میں نہ آیا، اور اس کو اشتباہ ہوا، البتہ گواہوں کو نام میں اشتباہ نہیں ہوا، اور نہ نکاح کے وکیل کو، تو نکاح درست ہوگا، کیوں کہ اس صورت میں جہالت نہیں ہے۔(۱) ------------------------------ = الحسیۃ أقوی من التسمیۃ ، لما في التسمیۃ من الاشتراک لعارض فتلغو التسمیۃ عندہا ۔ اہـ ۔۔۔ قولہ : (ولو لہ بنتان الخ) أي بأن کان اسم الکبریٰ مثلا عائشۃ والصغریٰ فاطمۃ ، فقال : زوجتک بنتي الکبریٰ فاطمۃ وقیل صح العقد علیہا وإن کانت عائشۃ ہي المرادۃ ، وہذا إذا لم یصفہا بالکبریٰ ۔ (۴/۷۹، کتاب النکاح ، مطلب في عطف الخاص علی العام ، دیوبند، و۴/۹۷، بیروت ، فتاوی قاضي خان علی ہامش الہندیۃ :۱/۳۲۴ ، کتاب النکاح، الفصل الأول في الألفاظ التی ینعقد بہا النکاح) (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۳۹، کراچی) الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قلت : وظاہرہ أنہا لو جرت المقدمات علی معینۃ وتمیزت عند الشہود أیضًا یصح العقد ، وہي واقعۃ الفتوی ، لأن المقصود نفي الجہالۃ ، وذلک حاصل بتعینہا عند العاقدین والشہود وإن لم یصرّح باسمہا ۔ اہـ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔=