محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مصنوعی پردۂ بکارت مسئلہ(۶۳۲): آج کل یورپ میں مصنوعی پردۂ بکارت بنائے گئے ہیں، کہ جن عورتوں کے پردۂ بکارت زائل ہوچکے ہیں، وہ دوبارہ مصنوعی پردہ لگاکر مصنوعی باکرہ بن سکتی ہیں، اس طرح کا عمل چند وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے: (۱) یہ عمل اختلاطِ نسب کا سبب بن سکتا ہے، کہ عورت جماعِ سابق سے حاملہ ہو، پھر مصنوعی پردہ لگاکر شادی کرلے۔(۱) (۲) مصنوعی پردۂ بکارت کے استعمال کی اجازت دینا، زنا کے دروازے کو کھولنے کے مترادف ہے۔(۲) ------------------------------ =ما في ’’ المؤطا للإمام مالک ‘‘ : قال مالک انہ بلغہ أن عائشۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہا زوج النبي ﷺ کانت تقول : ’’ کسر عظم المسلم میتاً ککسرہ وہو حي ‘‘ ۔ قال مالک : نعني في الإثم ۔ (ص/۸۳ ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء في الإختفاء النبشّ) ما في ’’ أوجز المسالک إلی مؤطا مالک ‘‘ : قال الباجي : ترید أن لہ من الحرمۃ في حال موتہ مثل مالہ منہا حال حیاتہ ، وإن کسر عظامہ فی حال موتہ یحرم کما یحرم کسرہا حال حیاتہ ، وقد أخرج أحمد وأبو داود وابن ماجۃ عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ، أن النبي ﷺ قال : ’’ کسر عظم المیت ککسرہ عظم الحي ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم قال الباجي : یرید مالک أنہما لا یتساویان فی القصاص وغیرہ ، وإنما یتساویان فی الإثم ۔ (۴/۵۸۷ ، کتاب الجنائز) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : والآدمي مکرم شرعاً وإن کان کافراً ، فإیراد العقود علیہ وابتذالہ بہ والحاقہ بالجمادات إذلال لہ ۔۔۔۔۔۔۔ إلا أن یجاب بأن المراد تکریم صورتہ وخلقتہ ، ولذا لم یجز کسر عظام میت کافر ۔ (۷/۱۷۹، کتاب البیوع ، مطلب الآدمي مکرم شرعاً ولو کافراً، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۵۴ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب الثامن عشر في التداوي) (فتاوی محمودیہ : ۱۸/۳۴۰،کراچی)=