محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
شریک کواپنا حصہ ہبہ کردینا مسئلہ(۳۹۷): اگرمالِ مشترک اُن اشیاء میں سے ہو، جن کا تقسیم کیا جانا ممکن نہیں ہے، اورایک شریک اپنا حصہ دوسرے شریک کوہبہ کرنا چاہے، تو کرسکتا ہے، جائز ہے، کیوں کہ اس طرح کے مالِ مشترک میں ہبۂ مشاع جائز ہے، لیکن اگر مالِ مشترک اُن اشیاء میں سے ہو ، جن کا تقسیم کیا جانا ممکن ہو، توقبل از تقسیم اس کا ہبہ کرنا جائز نہیں ہے۔(۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : =(۲) ما في ’’ الفقہ الإسلامي وأدلتہ ‘‘ : أن یکون رأس مال الشرکۃ عیناً حاضرۃ إما عند العقد أو عند الشراء ، وہو رأي جمہور الفقہاء ، فلا یجوز أن یکون رأس المال دینا ولا مالاً غائباً ، لأن المقصود من الشرکۃ الربح ، وہو یتم بواسطۃ التصرف ، والتصرف لا یمکن في الدین ولا في المال الغائب ۔ (۵/۳۸۹۰ ، ثانیاً ؛ الشروط الخاصۃ بعقود شرکات الأموال ، بدائع الصنائع :۵/۷۹ ، کتاب الشرکۃ) ما في ’’ فتاوی قاضي خان ‘‘ : أما شرکۃ المال عنان ومفاوضۃ وشرط جوازہما أن یکون رأس مالہما من الأثمان من الدراہم والدنانیر وأن یکون رأس المال حاضراً فی المجلس أو غائباً یحضرہ عند الشراء لا یصلح أن یکون رأس المال دینا ۔ (۴/۴۹۰ ، کتاب الشرکۃ) (قاموس الفقہ: ۴/۱۸۸، ۱۸۹، شرکت ومضاربت عصر حاضر میں:ص/۱۹۹، مالی معاملات پر غرر کے اثرات: ص/۱۸۶) الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ الفتاوی الخانیۃ علی ہامش الہندیۃ ‘‘ : أحد الشریکین إذا قال لشریکہ : وہبت لک حقي من الربح ، قالوا : إن کان المال قائماً لا تصح لأنہا ہبۃ المشاع فیما یقسم وإن کان الشریک استہلک المال صحت الہبۃ لأنہا صارت دیناً بالاستہلاک ، والدین لا یقسم ، فیکون ہذا ہبۃ المشاع فیما لا یقسم فتصح ۔۔۔۔۔۔۔ رجل وہب نصیبہ مما یقسم کالدار والأرض والمکیل والموزون من غیر شریکہ لا یجوز عند الکل ، وإن وہب من شریکہ لا یجوز عندنا ۔۔۔۔۔۔۔ وفیما لا یقسم کالعبد والدّابّۃ والثوب والحمام یجوز ہبۃ المشاع من الشریک وغیرہ في قولہم ۔ (۳/۲۶۶، ۲۶۷ ، کتاب الہبۃ ، فصل فیما =