محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
جعلی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر ملازمت وتنخواہ مسئلہ(۳۴۳): کسی ادارے یا کمپنی میں نوکری حاصل کرنے کے لیے جعلی سرٹیفکٹ بنوانا اگرچہ جھوٹ اور دھوکہ دہی ہونے کی وجہ سے گناہِ کبیرہ ہے(۴)، لیکن اگر کوئی شخص اس جعلی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر کسی ملازمت کے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اور اس میں مفوضہ کام کی انجام دہی کی اہلیت وصلاحیت موجود ہو، تو اسے اس کام پر ملنے والی تنخواہ جائز وحلال ہوگی، اور اگر اس میں مفوضہ کام کی انجام دہی کی اہلیت وصلاحیت موجود نہ ہو، تو اس کے لیے یہ تنخواہ حلال نہ ہوگی۔(۵) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۴) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {یٰٓاَیہا الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارۃً عن تراضٍ منکم} ۔ (سورۃ النساء :۲۹) ما في ’’ صحیح مسلم ‘‘ : عن عبد اللّٰہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’ إن الصدق یہدي إلی البر وإن البر یہدي إلی الجنۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وإن الکذب یہدي إلی الفجور وإن الفجور یہدي إلی النار ، وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللّٰہ کذاباً ۔ (۲/۳۲۵ ، باب قبح الکذب) ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہ ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیہا فنالت أصابعہ بللاً ، فقال : أفلا جعلتہ فوق الطعام حتی یراہ الناس ثم قال : ’’ من غشّ فلیس منّا ‘‘ ۔ (۱/۲۴۵) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : اتفق الفقہاء علی أن الغشّ حرام سواء أکان بالقول أم بالفعل وسواء أکان بکتمان العیب في المعقود علیہ أو الثمن أم بالکذب والخدیعۃ وسواء أکان في المعاملات أم في غیرہا من المشورۃ والنصیحۃ ۔ (۳۱/۲۱۹) (فتاوی حقانیہ: ۶/۱۲۰) (۵) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وأما رکنہا فہو الإیجاب والقبول والإرتباط بینہما وأما شرط جوازہا فثلاثۃ أشیاء ؛ أجر معلوم وعین معلوم وبدل معلوم ، ومحاسنہا دفع الحاجۃ=