محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
آجائے، جیسے ترکہ میں ورثاء کو حصہ مل جائے۔(۳) شرکت عقد : یہ ہے کہ جس میں دو یا کئی افراد ایجاب وقبول کے ذریعے ایسا معاملہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مال کو نفع بخش تجارت میں لگاتے ہیں، اور حاصل ہونے والا نفع طے شدہ نسبت کے مطابق تقسیم کرتے ہیں۔ پھر شرکت عقد کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں: (۱) شرکت اموال (۲) شرکت اعمال، (۳) شرکت وجوہ۔(۱) شرکت اموال : یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد اپنا متعین سرمایہ اس شرط پر لگائیں کہ ان میں سے ہر ایک یا بعض افراد کام کریں گے، اور نفع دونوں میں طے شدہ نسبت سے تقسیم ہوگا، جیسے زید اور عمرو نے آپس میں اس طرح شرکت کی کہ زید نے تیس لاکھ اور عمر نے بیس لاکھ روپئے لگائے اور کوئی نفع بخش کاروبار اس شرط پر شروع کیا کہ حاصل ہونے والے نفع کا ساٹھ فیصد زید کو اور چالیس فیصد عمر کو ملے گا۔(۲) شرکت اعمال : یہ ہے کہ دو یا زائد افراد کوئی ایسا کاروبار شروع کریں جس میں لوگوں کے کام اُجرت پر کیے جائیں، اور جو کمائی ہو اس میں دونوں شریک ہوں، مثلاً: دو دَرزی آپس میں اس بات پر اشتراک کرلیں کہ ہمارے پاس جو بھی کپڑا آئے گا ہم اسے مل کر سئیں گے ، اور جو اجرت ہوگی اسے آدھا آدھا تقسیم کرلیں گے۔مختلف پیشہ ور لوگ جیسے ڈاکٹر، انجینئر، کارپینٹر وغیرہ بھی اس طرح کی شرکت کرسکتے ہیں، اسے شرکت ابدان، شرکت صنائع اور شرکت تقبُّل بھی کہا جاتا ہے۔(۳) شرکت وجوہ : یہ ہے کہ شرکاء کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا، وہ اپنی وجاہت اور تجارتی ساکھ کی بنیاد پر سامان اُدھار لاتے ہیں، اور آگے فروخت کرکے نفع حاصل