محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مسائل کو جامع ہو، جب جامعہ میں دارالافتاء کا قیام عمل میں آیا تو بندے کے ذہن میں یہ صورت آئی کہ ہمار ا دارالافتاء اس کے لیے معین ثابت ہوسکتا ہے، وہ اس طرح کہ طلبۂ افتاء کو شروع سال میں مختلف ابواب فقہیہ سے متعلق مسائل پر تمرین کروائی جائے، اور بعد میں جدید مسائل پر، مگر محقق ومدلل انداز میں ، یعنی ہر مسئلہ کو حتی الامکان کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ، اور ساتھ ہی ساتھ قواعد فقہ وجزئیاتِ فقہیہ سے حل کروایا جائے؛ کہ اس سے، جہاں طلباء افتاء کی تمرین وتدریب ہوگی وہیں مسائلِ جدیدہ پر تخریج وتحقیق کاکام بھی ہوتارہے گا۔ الحمد للہ! محض اللہ کے فضل، اس کی توفیق اور نصرت سے یہ کام شروع ہوچکا ہے، سالِ اول کے طلبہ سے تقریباً چار سوباون(۴۵۲) ان مسائل پر کام کروایاگیا، جن کو ناکارہ بیانِ مصطفیٰ میں عوام کی ضرورت کے لیے صرف مسائل کی صورت میں بعنوان ’’عصر حاضر کے پیش آمدہ جدید مسائل ‘‘ لکھتا رہا، ان طلباء نے ماشاء اللہ بحسن خوبی اور انتہائی جانفشانی سے، دن رات ایک کرکے اس کا م کو انجام دیا، اور حضرت مفتی محمد جعفر صاحب ملی رحمانی بڑی دلچسپی وجدو جہد سے اس عملِ تحقیق اور تخریج وتطبیق پر نظر فرماتے رہے۔ فجزاہم اللہ خیر الجزاء محقق ومدلل جدید مسائل جلد دوم جو تقریباً چھ سو ستر (۶۷۰) مسائل پر مشتمل ہے، یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک زرین کڑی ہے، ان شاء اللہ ہرسال اسی طرح کام ہوتا رہے گا، اور یہ کوشش کی جائے گی کہ جدید مسائل کا ایک انسائیکلوپیڈیا تیار ہوجائے، تاکہ وقت کی ایک اہم ضرورت پوری ہو، دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی نصرت واعانت شاملِ حال رکھے! ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا إنک أنت التواب ا لرحیم حذیفہ وستانوی ۲۵؍۴؍۱۴۳۶ھ۔۱۵؍۲؍۲۰۱۵ء