محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
اسی طرح خود کفالہ میں بھی فقہاء کے ہاں توسع پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ کفالہ بلکہ اکثر معاملات کا تعلق عرف کے ساتھ ہے، آج کل کوئی چیز فروخت کرتے وقت گارنٹی دینا کاروبار کا ایک اہم جز بن گیا ہے، چونکہ آج کل دو نمبر (نقلی) چیزیں عام طور پر تیار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے گارنٹی دینا اور لینا نا گزیر ہوگیا ہے، اور ویسے بھی عام طور پر عالمی اور ملکی منڈیوں میں ایک رواج سا بن گیا ہے کہ لوگ گارنٹی والی چیز بلا کسی حجت کے خرید لیتے ہیں، لہٰذا گارنٹی پر خرید وفروخت کرنا عرف اور عموم بلویٰ کی وجہ سے جائز ہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں۔(۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : ولأن الکفالۃ جوازہا بالعرف ۔ (۴/۶۰۶ ، کتاب الکفالۃ) ما في ’’ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر ‘‘ : تکفلت عنہ بمالک علیہ أو بما یدرکک في ہذا البیع ، یعني من الضمان بعد ان کان دیناًَ صحیحاً ، لأن مبنی الکفالۃ علی التوسع فإنہا تبرع ۔۔۔۔۔۔۔۔ وعلی الکفالۃ بدرک ، بفتح الراء وسکونہا ، وہو التبعۃ ، دلیل علی جوازہا بالمجہول لا یصح ، لأنہ التزام ، فلا یصح مجہولاً کالثمن في البیع ، وقلنا : إن الضمان بدرک صحیح بالإجماع ، وہو ضمان المجہول ۔ (۷/۱۷۲ ، کتاب الکفالۃ) ما في ’’ الہدایۃ ‘‘ : وأما الکفالۃ بالمال فجائزۃ معلوماً ما کان المکفول بہ أو مجہولاً إذا کان دیناً صحیحاً ۔۔۔۔۔۔ أو بما یدرکک في ہذا البیع ، لأن مبنی الکفالۃ علی التوسع فیحتمل فیہا الجہالۃ ، وعلی الکفالۃ بالدرک إجماع ۔ (۳/۹۸ ۔ ۱۰۰ ، کتاب الکفالۃ) ما في ’’ فتاوی قاضي خان علی ہامش الہندیۃ ‘‘ : رجل باع داراً وکفل رجل المشتری بما أدرکہ فیہا من درک ، فأخذ المشتري بذلک عنہ رہناً ، ذکر في الأصل أن الرہن باطل ، ولا ضمان علی المرتہن ، والکفالۃ جائزۃ ۔ (۳/۶۴) (فتاوی حقانیہ :۶/۳۶۴) ما في ’’ قواعد الفقہ ‘‘ : ’’ استعمال الناس حجۃ یجب العمل بہا ‘‘ ۔ (ص/۵۷)