محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مضاربت کے صحیح ہونے کے لیے رأس المال کا بشکل نقد ہونا ضروری ہے(۱)، نیز اِس عقد میں ایک فریق-مالک- کے لیے نفع کی ایک خاص مقدار بھی متعین ہے، جب کہ عقد مضاربت میں نفع کی کسی خاص مقدار کو ، کسی ایک فریق کے لیے متعین کرنا شرعاً درست نہیں ہے(۲)۔ اور نہ ہی اجارۃً صحیح ہے،اس لیے کہ اس معاملے میں شیٔ مستاجَر - گاڑی یا رکشہ- جس کرایہ (دو سو روپئے) کے عوض کرایہ پر لیا گیا، کرایہ دار اِس سے زیادہ کرایہ سواریوں سے وصول کرتا ہے، اور یہ دونوں کرایے ایک ہی جنس (روپیوں) سے ہیں، لہٰذا یہ زائد وصول کیا جانے والا کرایہ - کرایہ دار کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہونا چاہیے(۳)۔ البتہ جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ گاڑی یا رکشہ کا مالک کسی شخص کو اپنی گاڑی یارکشہ چلانے کے لیے متعین اجرت پر رکھ لے، کہ اِس صورت میں گاڑی یا رکشہ سے حاصل ہونے والا پورا کرایہ گاڑی یا رکشہ مالک کا ہوگا، اور ملازم اپنی اجرتِ متعینہ کا حقدار ہوگا۔(۴) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ الجوہرۃ النیرۃ ‘‘ : (ولا تصح المضاربۃ إلا بالمال الذي بینّا أن الشرکۃ تصح بہ) یعني أنہا لا تصح إلا بالدراہم والدنانیر ۔ (۱/۶۲۶، کتاب المضاربۃ) (۲) ما في ’’ الجوہرۃ النیرۃ ‘‘ : (ومن شرطہا أن یکون الربح بینہما مشاعاً لا یستحق أحدہما منہ دراہم مسمّاۃً) ؛ لأن شرط ذلک یقطع الشرکۃ لجواز أن لا یحصل من الربح إلا تلک الدراہم المسماۃ ۔ قال في شرحہ : إذا دفع إلی رجل مالا مضاربۃ علی أن ما رزق اللہ فللمضارب مائۃ درہم ، فالمضاربۃ فاسدۃ ۔ (۱/۶۲۶، کتاب المضاربۃ ، المغني لإبن قدامۃ:۵/۱۹۱) (۴) ما في ’’ الجوہرۃ النیرۃ ‘‘ : (الإجارۃ عقد علی المنافع بعوض) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ولا یصح حتی تکون المنافع معلومۃ ، والأجرۃ معلومۃ) ؛ لأن الجہالۃ في المعقود علیہ وبدلہ یفضي =