تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ماتحت رہنے کا جو قانون بنایا ہے، اسی دوستی والی بات ہی تو ختم کیا ہے۔ دوستی میں ایجاب و قبول، نکاح، گواہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس سے دل ملا، آنکھ لگی، ساتھ ہولیے۔ یہ طریقہ انبیاء کرام ؑ کے راستہ کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ آج انسان اپنی انسانیت کی قیمت بھی نہیں پہچانتا، زندگی کے رخ کو محض حیوانیت پر ڈالنے کو کمال ترقی سمجھنے لگا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت پنج وقتہ نماز کی پابند ہو اور رمضان کے روزے پورے رکھتی ہو اور عفت و عصمت کی حفاظت کرتی ہو (یعنی غیر شوہر سے نسوانیت کا تعلق نہ رکھتی ہو) اور شوہر کی فرماں برداری کرتی ہو، ایسی عورت کو سرور دو عالم خاتم النّبیینﷺ نے خوش خبری دی ہے کہ جنت کے جس دروازہ سے چاہے جنت میں چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان عورتوں کو جنت کی طلب نصیب فرمائے اور جنت میں لے جانے والے کاموں پر لگائے۔ وباللہ التوفیق۔نماز میں خشوع و خضوع کی اہمیت : ۱۸۔ وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃُ ؓ قَالَتْ رَأیَ النَّبِیُّ ﷺ غُلَا مًا لَّنَا یُقَالُ لَہٗ اَفْلَحُ اِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ یَا اَفْلَحُ تَرَبْ وَجْھَکَ۔ (رواہ الترمذی) حضرت ام سلمہؓ نے بیان فرمایا کہ ہمارا ایک غلام تھا جسے افلح کہتے تھے۔ ا یک بار حضور اقدسﷺ نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ سجدہ میں جاتا تو (غبار صاف کرنے کے لیے سجدہ کی جگہ) پھونک مار دیتا تھا۔ یہ دیکھ کر آں حضرتﷺ نے فرمایا کہ اے افلح اپنے چہرہ کو مٹی میں ملاؤ۔ (مشکوٰۃ شریف بحوالہ ترمذی) تشریح: نماز سب عبادتوں سے بڑی عبادت ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس میں انسان اپنے ربّ کریم کے حضور میں اپنی ذات کو بالکل ذلیل کرکے پیش کردیتا ہے اور جسم انسانی میں جو سب سے زیادہ شریف عضو ہے یعنی سر، اس کو سب سے زیادہ ذلیل عنصر یعنی زمین پر رکھ دیتا ہے۔ سجدہ میں سر رکھ دینا اظہار عجز و انکسار کی انتہا ہے۔ عاجزی و فروتنی ظاہر کرنے کے لیے انسان کے پاس اس سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جب کہ نماز اظہار عبودیت کے لیے ہے اور سراپا عجز و نیا ز ہے اور بندگی ہی بندگی ہے تو اس میں یہ کوشش کرنا کہ سجدہ میں ماتھے پر مٹی نہ لگے کیونکر مناسب ہوسکتا ہے؟ جب سر مٹی پر رکھنا ہی ٹھہرا تو خاک دھو ل اور گرد و غبار صاف کرنابے معنی ہے، بلکہ ماتھے میں مٹی لگ جانا عجز و نیاز کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس لیے سرور عالمﷺ نے حضرت افلحؓ سے فرمایا کہ اپنے چہرہ کو مٹی میں ملاؤ، نماز خودی کو مٹانے کے لیے ہے، تکبر کو توڑنے کے لیے اور نفس کے غرور و تمکنت اور نخوت کو دبانے کے لیے ہے۔ جب نماز میں بھی یہ دھیان رہا کہ کپڑے میں سلوٹیں نہ پڑجائیں اور ماتھے میں مٹی نہ لگ جائے تو اللہ کی طرف دھیان کہاں رہا؟ نماز تو رب العالمین جل جلالہ کی عظمت دل میں بسانے کے لیے ہے۔ جب رب اکبر کی بڑائی سامنے آتی ہے تو اپنی