تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
روزہ اور صحت : روزہ میں جہاں ظاہر و باطن کا تزکیہ ہوتا ہے وہاں صحت و تن درستی بھی حاصل ہوتی ہے۔ چناں چہ حافظ منذری ؒ نے’’الترغیب والترہیب‘‘ میں حضور اقدسﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: اُغْزُوْاتَغْنِمُوْا وَصُوْمُوْا تَصِحُّوْا وَسَافِرُوْا تَسْتَغْنُوْا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط و رواتہ ثقات) جہاد کرو غنیمت حاصل ہوگی، روزے رکھو تن درست رہوگے، سفر کرو مال دار ہوجاؤگے۔ حضور اقدسﷺ نے جو کچھ فرمایا بالکل حق ہے، آنکھوں کے سامنے ہے، ڈاکٹر و اطبا بھی یہ بات بتاتے ہیں کہ روزہ کا صحت جسمانی سے خاص تعلق ہے اور رمضان میں جو ماجرا سب آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ بارہ چودہ گھنٹے خالی پیٹ رہ کر افطار کے وقت نرم گرم دال، پکوڑے، کچے پکے چنے اور طرح طرح کی چیزیں چند منٹ کے اندر معدہ کے اندر پہنچ جاتی ہیں اور کچھ بھی کسی کو تکلیف نہیں ہوتی۔ یہ صرف روزہ کی برکت ہے۔ اگر طبعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس طرح خالی پیٹ اناپ شناپ بھرتی کرلینے کی وجہ سے معدہ سخت بیمار ہوجانا چاہیے۔روزہ کی فضیلت : ایک روزہ رکھ لینے سے خدائے پاک کی طرف سے کیا انعام ملتا ہے؟ اس کے بارے میں سیّد عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ صَامَ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِعْدَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ عَنِ النَّارِ سَبْعِیْنَ خَرِیْْفًا۔ (بخاری ومسلم عن ابی سعید الخدری ؓ) جو شخص اللہ کی خوش نودی کے لیے ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کو آتش دوزخ سے اتنی دور کردیں گے جتنی دور کوئی شخص ستر سال تک چل کر پہنچے۔ ‘‘ اس حدیث میں نقل یا فرض روزہ کی تخصیص نہیں کی گئی ہے، اور خاص رمضان کے روزے کے بارے میں ارشاد نبویﷺ ہے کہ مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِّنْ رَمَضَان مِنْ غَیْرِ رُخْصَۃٍ وَّلَامَرَضٍ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ صَوْمُ الدَّھْرِ کُلِہٖ وَاِنْ صَامَہٗ۔ (رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد وابن ماجہ و الدارمی عن ابی ھریرۃ ؓ والبخاری فی ترجمہ باب کما فی المشکوٰۃ) شرعاً جسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہ ہو اور عاجز کرنے والا مرض بھی لاحق نہ ہو اس نے اگر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا تو عمر بھر روزے رکھنے سے بھی اس ایک روزہ کی تلافی نہ ہوگی، اگرچہ (بہ طور قضا) عمر بھر روزے بھی رکھ لے۔ بات یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک موسم ہوتا ہے اور موسم کے اعتبار سے اشیا و اجناس کی قیمت بڑھتی اور چڑھتی ہے، ماہ رمضان المبارک فرض روزوں کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے، اگر کسی نے اپنی بدبختی سے رمضان کا ایک روزہ چھوڑدیا، اس کے اعمال نامہ میں گناہ کبیرہ تو لکھا ہی گیا اورروزہ نہ رکھنے پر جو ثواب عظیم اور بہت بڑی خیر و برکت سے محرومی ہوئی وہ اس کے علاوہ ہے جو بہت بڑا نقصان ہے، اس ایک روزہ کے عوض اگر عمر بھر بھی روزے رکھے تب