تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جب تک زبان سے صاف لفظوں میں اجازت نہ دے، اجازت نہ سمجھی جائے گی اور بالغہ کنواری کے بارے میں جو یہ لکھا ہے کہ اس کی خاموشی بھی اجازت میں شمار ہوگی، یہ اس وقت ہے جب کہ وہ ولی اجازت طلب کرے جو قریب تر ہے، اگر قریب تر ولی کے علاوہ کوئی دوسرا ولی اجازت لے تو بالغہ کنواری لڑکی کی اجازت بھی وہی معتبر ہوگی جو زبان سے ہو اور صاف لفظوں میں ہو۔ اس تفصیل کو خوب سمجھ لیں۔شریعت کا اعتدال : شریعت نے کیسے اعتدال سے کام لیا ہے۔ ایک طرف تو بالغ لڑکی کو اپنی ذات کا اختیار دیا ہے کہ جب تک وہ اجازت نہ دے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف اس کی شرم کا لحاظ رکھا اور ولی کے اجازت لینے پر اس کی خاموشی یعنی انکار نہ کرنے کو اجازت شمار کیا ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو ولی اس کا نکاح نہیں کرسکتا اور جس بالغ لڑکی کا پہلے نکاح ہوچکا ہے اس کے دوسرے نکاح کے لیے اس کی زبانی اجازت لازم قرار دی گئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ جس عورت کا نکاح ایک بار ہوچکا ہے اور اس کی شرم ٹوٹ چکی ہے، اس کی خاموشی کو اجازت قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں اور قریب تر ولی کے علاوہ اگر کوئی دوسرا ولی اجازت لے تو بالغہ کنواری کی خاموشی بھی معتبر نہیں کیوں کہ اندیشہ یہ ہے کہ غیر اقرب جہاں نکاح کرنا چاہتا ہے، اس میں پوری ہمدردی کی رعایت نہ رکھی، لہٰذا لڑکی جب صاف لفظوں میں اجازت دے تب معتبر ہوگی۔نابالغ کا نکاح : بعض خاندانوں اور علاقوں میں یہ مستقل طریقہ بنا رکھا ہے کہ نابالغی میں لڑکے اور لڑکی کا نکاح کردینا ضروری سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ نابالغی کا نکاح کردینا ایک جائز امر ہے، کوئی فرض و واجب نہیں۔ خواہ مخواہ نابالغی میں بچوں کا نکاح کردینا کوئی ضروری کام نہیں ہے۔ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ نابالغی میں نکاح کردینے کے بعد لڑکا اور لڑکی بالغ ہوکر منکر ہوجاتے ہیں اور اس شادی کو پسند نہیں کرتے۔ ان کا انکار اور والدین کا اسی جگہ رخصتی کرنے پر اصرار مصیبت بن جاتا ہے۔ دور حاضر کی اولاد کی خود رائی کے پیش نظر اگر بات پہلے سے پکی کرکے رکھے اور آخری فیصلہ اور نکاح لڑکا لڑکی کے بالغ ہونے پر ان کی اجازت لے کر کریں تو مذکورہ پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ نیز بعض مرتبہ لڑکا بالغ ہوکر شریر بدمعاش نکل جاتا ہے۔ رخصتی کریں تو لڑکی کی جان مصیبت میں پھنسے اور لڑکے سے طلاق کو کہیں تو طلاق نہیں دیتا۔ یہ پریشانیاں پیش آتی رہیں۔ ان سے بچنے کا یہی علاج ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ البتہ ایسا قانون بھی خلاف شریعت ہے کہ نابالغ کا نکاح ہو ہی نہ سکے۔ جواز شرعی پر عمل کریں تو لڑکا لڑکی کا فائدہ دیکھ لیں۔