تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
صدقہ جاریہ کا ثواب : ۴۵۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا مَاتَ الْاَنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَمَلُہٗ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْلَہٗ۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے سب اعمال ختم ہوجاتے ہیں، لیکن تین چیزوں کا نفع پہنچتا رہتا ہے: ۱۔ صدقہ جاریہ۔ ۲۔ ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہیں ۔ ۳۔ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ۳۲ از مسلم) تشریح: جب تک آدمی زندہ رہتا ہے خود نیکیاں کماتا ہے اور اپنے لیے آخرت میں ذخیرہ جمع کرتا رہتا ہے، لیکن جب موت آجاتی ہے تو اعمال ختم ہوجاتے ہیں اور ثواب جاری رہنے کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے، البتہ تین چیزیں ایسی ہیں جو اس کے عمل کا نتیجہ ہیں اور اس کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ اوّل: صدقہ جاریہ کا ثواب برابر جاری رہتا ہے، صدقہ جاریہ اس کو کہتے ہیں جس کانفع وقتی طور پر ختم نہ ہوجائے بلکہ اس سے لوگ متنفع ہوتے رہیں اور صدقہ کرنے والے کو ثواب ملتا رہے، مثلاً کوئی مسجد بنوادی، دینی مدرسہ کی تعمیر میں حصہ لیا، کسی دارالعلوم میں تفسیر و حدیث اور فقہ و فتاویٰ کی کتابیں وقف کردیں ۔ کہیں کنواں کھدوادیا، مسافر خانہ بنوادیا، یا کوئی ایسا کام کردیا جس سے عوام و خواص کو نفع ہوتا ہے، ایک آدمی اس طرح کے کسی کام پر پیسہ خرچ کرکے جن کا ذکر اوپر ہوا قبر میں چلا گیا، لوگ اس کے صدقہ و خیرات سے متنفع ہورہے ہیں اور اس کے نامہ اعمال میں برابر ثواب لکھا جارہا ہے اور درجات بلند ہورہے ہیں ۔ جہاں تک ہو زندگی میں ایسا کام ضرور کردینا چاہیے۔ دوم: وہ علم جس سے نفع اٹھایاجاتا ہو، یہ بھی وہ چیز ہے جس کا ثواب موت کے بعد جاری رہتا ہے، کسی کو قرآن مجید حفظ یا ناظرہ پڑھادیا، کسی کو نماز سکھادی، کسی کو مولوی بنادیا یا کوئی دینی کتاب لکھ دی، یا اپنے پیسے سے شائع کردی، یہ علمی صدقہ جاریہ ہے، قرآن پڑھنے والا جب تک قرآن مجید پڑھے یا پڑھائے گا پھر اس کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد پڑھائیں گے، مولوی صاحب تفسیر و حدیث پڑھائیں گے، مسئلہ بتائیں گے، لوگ ان سے مستفید ہوں گے اور آگے ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد علم پھیلائیں گے، جس کو نمازسکھادی وہ نماز پڑھتا رہے گا اور دوسروں کو سکھائے گا تو اس کا ثواب صدیوں تک اس شخص کو ملتا رہے گا جس نے دینی علم کو آگے بڑھایا یا آگے بڑھانے کا ذریعہ بن گیا اور جتنے لوگ اس کا ذریعہ اور واسطہ بنتے جائیں گے ان سب کو ثواب ملتا رہے گا اور کسی کے ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ سوم: نیک اولاد جو دعا کرتی ہو اس کی دعا کا فائدہ بھی والدین کو پہنچتا رہتا ہے۔ دعا میں تو کچھ جان مال خرچ نہیں ہوتا، وقتاً فوقتاً اگر والدین کے لیے دعائے مغفرت اور دعا رفع درجات کردی جائے تو والدین کو بہت نفع پہنچتا رہے گا اور اولاد کا کچھ بھی خرچ نہ ہوگا، اولاد کی پیدائش کا ذریعہ بننا اور اس کو پالنا پوسنا چوں کہ