تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
شرم گاہ دونوں پر پابندی ہوتی ہے اور مذکورہ دونوں راہوں سے جو گناہ ہوسکتے ہیں، روزہ ان سے باز رکھنے کا بہت بڑاذریعہ ہے۔ ا سی لیے تو ایک حدیث میں فرمایا: اَلصِّیَامُ جُنَّہٌ۔ یعنی روزہ ڈھال ہے (گناہ سے اور آتش دوزخ سے بھی بچاتا ہے)۔ (بخاری و مسلم)روزہ کی حفاظت : اگر روزہ کو پورے اہتمام اور احکام اور آداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پورا کیا جائے تو بلاشبہ گناہوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجاتا ہے، خاص روزہ کے وقت بھی اور اس کے بعد بھی، ہاں اگر کسی نے روزہ کے لوازم کا خیال نہ کیا اور گناہوں میں مشغول رہتے ہوئے روزہ کی نیت کرلی اور کھانے پینے اور خواہش نفسانی سے باز رہا مگر حرام کمانے اور غیبت کرنے میں لگا رہا تو اس سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر روزہ کے برکات و ثمرات سے محرومی رہے گی جیسا کہ سنن نسائی میں ارشاد نبویﷺ نقل کیا ہے۔ الصَّوْمُ جُنَّہٌ مَا لَمْ یَخْرَقْھَا۔ یعنی روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔ (بخاری عن ابی ھریرۃ ؓ) جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات اور غلط کام نہ چھوڑ دے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ (گناہوں کو چھوڑے بغیر) محض کھانا پینا چھوڑ دے۔ معلوم ہوا کہ کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑنے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتابلکہ روزہ کو فواحش، منکرات اور ہر طرح کے گناہوں سے محفوظ رکھنا لازم ہے، روزہ منہ میں ہو اور آدمی بدکلامی کرے یہ اس کے لیے زیب نہیں دیتا، اسی لیے تو سرور عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: وَاِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفَثْ وَلَا یَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ اَمْرُئٌ صَآئِمٌ۔ (بخاری ومسلم عن ابی ہریرۃ) یعنی جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو گندی باتیں نہ کرے، شور نہ مچائے، اگر کوئی شخص گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑے کرنے لگے (تو اس کوگالی گلوچ یا تھپڑ سے جواب نہ دے) بلکہ یوں کہہ دے کہ میں روزہ دار آدمی ہوں (گالی گلوچ کرنا یا لڑائی لڑنا میرا کام نہیں)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فخر بنی آدمﷺ نے فرمایاکہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کے لیے (حرام کھانے یا حرام کام کرنے یا غیبت وغیرہ کرنے کی وجہ سے) پیاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اور بہت سے تہجد گزار ایسے ہیں جن کے لیے (ریاکاری کی وجہ سے) جاگنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (دارمی)