تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
محرم کے بغیر جائز نہیں ہے، اگرچہ ہوائی جہاز کا سفر ہو، عورتیں اس کا لحاظ نہیں کرتی ہیں اگر تین منزل سے کم سفر ہو تو اس میں بھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر میں نہ جائیں، افضل یہی ہے، کیوں کہ بعض احادیث میں اس کی ممانعت بھی آئی ہے اور تین منزل کا سفر بلا محرم و شوہر کے تو جائز ہی نہیں۔ محرم اس کو کہتے ہیں جس سے زندگی بھر کبھی نکاح درست نہ ہو، اور جس محرم پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ بھی سفر کرنا جائز نہیں، خوب سمجھ لو، اس کی مزید تفصیل ان شاء اللہ حج کے بیان میں آئے گی۔مریض کی نماز کا بیان : ۳۱۔ وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ صَلِّ قَائِمًا فَاِنَّ لَّمْ تَسْتَطِعُ فَقَا عِدًا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ۔ (رواہ البخاری) حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پڑھ۔ (مشکوٰۃ: ص ۱۱۰، از بخاری) تشریح: نماز اسلام کا بہت بڑا فریضہ ہے اور دین اسلام میں اس کا بہت بڑا مرتبہ ہے، سفر ہو، مرض ہو، رنج ہو، خوشی ہو، دکھ تکلیف ہو یا آرام ہو، بہرحال نماز پڑھنا فرض ہے۔ شریعت میں مریض کے لیے آسانیاں رکھ دی گئی ہیں، جن کی طرف حدیث بالا میں اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ ہم اس کو تفصیل سے ذکر کرتے ہیں، جب تک ہوش و حواس قائم ہوں نماز چھوڑنے کا کوئی موقع نہیں، جو لوگ مرض اور تکلیف میں نماز چھوڑ دیتے ہیں، بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اپنی آخرت خراب کرتے ہیں۔ 1 کسی کی ایسی نکسیر پھوٹی کہ بند ہی نہیں ہوتی، یا کوئی ایسا زخم ہے کہ برابر بہتاہے، کسی وقت بہنابند نہیں ہوتا یا پیشاب کی بیماری ہے کہ ہر وقت قطرہ آتا رہتا ہے اور اتنا وقت نہیں ملتا کہ وضو سے نماز پڑھ سکے تو ایسے شخص کو ’’معذور‘‘ کہتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرے، جب تک وہ وقت باقی رہے گا وضو باقی رہے گا، البتہ جس بیماری میں مبتلا ہے اس کے سوا اگر کوئی اور بات ایسی پائی جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتاہے تو اس سے وضوٹوٹ جائے گا، اور پھر سے کرنا پڑے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کی ایسی نکسیر پھوٹی کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی، اس نے ظہر کے وقت وضو کرلیا تو جب تک ظہر کا وقت باقی رہے گا نکسیر کے خون کی وجہ سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا، البتہ اگر پیشاب پاخانہ کیا یا سوئی چبھ گئی، اس کی وجہ سے خون نکل آیا تو وضو جاتا رہے گا، پھر دوبارہ وضو کرنا لازم ہے۔ 2 معذور نے جس نماز کے لیے وضو کیا ہے جب اس نماز کا وقت چلا گیا تو اب دوسرے وقت کے لیے دوسرا وضو کرے اور اسی طرح ہر نماز کے وقت وضو کرلیا