تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
احکام شرعیہ کو حکمت اور علت معلوم کیے بغیر ماننا لازم ہے : احکام کی حکمتیں معلوم کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ لیکن حکمت سمجھ میں نہ آئے تو حکم ہی کو نہ مانے اور اس کے خلاف رسالے لکھنے لگے اور مضامین شائع کرنے لگے، یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ کسی حکم شرعی کی حکمت معلوم ہوگئی تو بہت اچھی بات ہے اور معلوم نہ ہوسکے یا سمجھ میں نہ آئے تو اسی کو اسی طرح سچے دل سے ماننا ضروری ہے جیسا کہ حکمت سمجھ میں آنے پر مانتے ہیں اور یہ بات بھی واضح رہے کہ کسی مسئلہ کی اگر کوئی حکمت سمجھ میں آجائے تو اس کو یوں نہ سمجھے کہ اس کی واقعی یہی حکمت ہے۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسری کوئی حکمت ہو۔ جب حضرت عائشہ ؓ نے اپنی شاگرد معاذہ کی سرزنش کی تو انھوں نے جواب دیا میں نیچری نہیں ہوں۔ یعنی دین میں ٹانگ اڑانا میر امقصد نہیں البتہ حکمت معلوم کرنے کو جی چاہتا ہے، اس پر حضرت عائشہ ؓ نے حکمت نہ بتائی بلکہ ایک مومنانہ مضبوط جواب دے دیا کہ عمل کرنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ حضور اقدسﷺ کے زمانے میں ہم لوگوں کو حیض آتا تھا تو نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا اور رمضان میں حیض آجاتا تھا تو ان دنوں کے روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، درحقیقت ایک مومن بندہ کے لیے یہ جواب بالکل کافی ہے، کیوں کہ مقصد زندگی حکم ربی کی تعمیل ہے نہ کہ علت و حکمت کی تلاش، اس لیے حضرت عائشہ ؓ نے اس پر اکتفا کیا، البتہ حکمائے اسلام نے اس میں ایک حکمت یہ بتائی ہے کہ نمازیں روزانہ کی پانچ کی تعداد میں جمع ہوکر بہت زیادہ ہوجاتی ہیں، عورت کو گھریلو کام کاج اور بچوں کی پرورش کے مشاغل کی وجہ سے ان سب کی قضا پڑھنا سخت مشکل ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کرم فرمایا کہ حیض کے زمانے کی نمازوں کو بالکل ہی معاف فرمادیا اور روزے چوں کہ بارہ ماہ میں صرف ایک مرتبہ آتے ہیں اور حیض کی وجہ سے جو روزے چھوٹتے ہیں وہ زیادہ ہوتے بھی نہیں۔ ان کی قضا رکھ لینا آسان ہے۔ اس لیے ان کی قضا کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ عورتیں عموماً روزہ رکھنے میں ماہر معلوم ہوتی ہیں اور نمازوں سے جان چھڑاتی ہیں۔ اگر ماہواری کے دنوں کی نمازوں کی قضا لازم کردی جاتی تو قضا نہ پڑھتیں اور گناہگار رہتیں اور ادا کرنا بھی مشکل تھا۔ فَسُبْحَانَ مَنْ لَایُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا۔نفلی روزوں کا ثواب اور ہر عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھنے کا حکم : ۶۵۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرِیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ﷺ لَا یَحِلُّ لِلْمَرْئَۃِ اَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ وَلَا تَاْذَنَ فِیْ بَیْتِہٖ اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔ (رواہ مسلم)