تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اِتَّقِی اللّٰہَ یَا فَاطِمَۃُ وَادِّیْ فَرِیْضَۃَ رَبِّکِ وَاعْمَلِیْ عَمَلَ اَھْلِکِ۔ یعنی اے فاطمہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو اور اپنے شوہر کے کام کاج میں لگی رہو۔گھر میں سامان کی کمی کوئی عیب نہیں : حضرت سیدہ فاطمہؓ گھر کا کام کاج خود ہی کرتی تھیں، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوا۔ کھانے پینے کی بھی کمی رہتی تھی، گھر میں سامان بس بہت ہی معمولی تھا۔ حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرت سیدہ فاطمہؓ نے زینت کے لیے عمدہ قسم کے کپڑے کا پردہ دروازہ پر لٹکا رکھا ہے تو اس پر خفگی کا اظہار فرمایا اور ارشاد ہوا کہ یہ میرے گھر والے ہیں، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے حصہ کی عمدہ چیزیں اسی زندگی کے اندر کھالیں۔ (مشکوٰۃ) حضور اقدس ﷺ کا فقر اختیاری تھا اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی اسی کو پسند فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہؓ حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا۔ یارسو ل اللہ ﷺ میرے اور علیؓ کے پاس صرف مینڈھے کی ایک کھال ہے جس پر ہم رات کو سوتے ہیں اور دن کو اس پراونٹ کو چارہ کھلاتے ہیں۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے میری بیٹی صبر کرو، کیوں کہ موسیٰ ؑ نے دس برس تک اپنی بیوی کے ساتھ قیام کیا اور دونوں کے پاس صرف ایک َعبا تھی۔ اسی کو اوڑھتے اور اسی کو بچھاتے تھے۔ (شرح مواہب لدنیہ) حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اپنی صاحب زادی کو ایک غلام یا باندی عطا فرمادیتے، مگر آپ نے ضروریات کا احساس فرمایا اور آپ کی خداداد رحمت و رافت نے اسی پر آپ کو آمادہ کیا کہ صفہ میں رہنے والے میری بیٹی سے زیادہ ضرورت مند ہیں، کسی نہ کسی طرح دکھ تکلیف سے محنت و مشقت کرتے ہوئے صاحب زادی کی زندگی تو گزر رہی ہے مگر صفہ والے تو بہت ہی بدحال ہیں، جن کو فاقوں پر فاقے گزر جاتے ہیں، ان کی رعایت مقدم ہے اور صاحب زادی کو ایسا عمل بتایا جو آخرت میں بے انتہا اجر و ثواب کا ذریعہ بنے۔ دنیا فنا ہونے والی تکلیف آخرت کے بے انتہا انعامات کے مقابلہ میں بہت ہی بے حقیقت ہے۔ اسی لیے آں حضرت ﷺ نے اس موقع پر حضرت سیدہؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے شوہر کا کام انجام دیتی رہو، اور اپنے رب کا فریضہ ادا کرتی رہو۔ حضرت فاطمہؓ نے جواب میں عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ (کی تقدیر) اور اس کے رسول ﷺ کی (تجویز) پر راضی ہوں۔ شاید ڈرنے کو اسی لیے فرمایا کہ دنیاوی آرام و راحت کا سامان طلب کرنا ان کے بلند مرتب کے خلاف تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم حضرت سیدہ فاطمہؓ دونوں جہان کے بادشاہ کی سب سے پیاری بیٹی اور جنت کی