تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
مورتیاں خرید کر لائی جاتی ہیں، بچہ کی خواہش ہے، اس کا دل برا نہ ہو، مگر مدنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر کو رنج پہنچ جائے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ فاللہ المستعان وبیدہ التوفیقزندگی گزارنے کے لیے مختصر سامان کافی ہونا چاہیے : (۲۳۹) وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاعَائِشَۃُ اِنْ اَرَدْتِ اللُّحُوْقَ بِیْ فَلْیَکْفِکِ مِنَ الدُّنْیَا کَزَادِ الرَّاکِبِ وَاِیَّاکَ وَمُجَالَسَۃَ الْاَغْنِیَآئِ وَلاََ تَسْتَخْلِقِیْ ثَوْبًا حَتّٰی تُرَقِّعِیْہِ۔ ’’حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ ! اگر تو (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو تجھے دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے اتنا (مختصرسا) سامان کافی ہونا چاہیے جتنا مسافر ساتھ لے کر چلتا ہے اور مالداروں کے پاس نہ بیٹھنا اور کسی کپڑے کو پرانا (یعنی ناقابل استعمال) نہ سمجھنا، جب تک کہ اسے پیوند لگا کر نہ پہن لے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ ص ۳۷۵ عن الترمذی)تشریح : اس حدیث میں تین اہم نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں جو بڑی اکسیر ہیں، پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ دنیاوی زندگی کے گزارہ کے لیے معمولی سے سامان سے کام چلاؤ۔ مسافر جتنا سامان ہمراہ لے کر جاتا ہے اتنے سے سامان میں گزارہ کرو، زیادہ سامان کے لیے زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اکثر حلال مال سے فضولیات اور فرنیچر اور زیب و زینت کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ لامحالہ ان کے لیے حرام کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے اور آخرت میں جو مال کا حساب ہوگا وہ بھی بہ قدر مال ہوگا، کم آمد اور کم خرچ والے وہاں مزے میں رہیں گے، اس لیے دنیاوی زندگی کا سامان جس قدر کم ہو بہتر ہے، آج کل سامان بڑھانے کی دوڑ میں ہزاروں روپے فرنیچر پر او رنئے نئے ڈیزائن کے بنگلوں پر اور طرح طرح کے غیر ضروری امور پر خرچ ہورہے ہیں، غریب سے غریب کو بھی صوفہ سیٹ کی طلب ہے اور ٹی وی اور ٹیپ ریکارڈر وغیرہ کی رغبت ہے، مخملی قالین اٹھنے بیٹھنے کے لیے نہیں بلکہ محض بچھانے کے لیے چاہتے ہیں، جس کو جوتوں سے روندتے ہیں، دیکھو! یہ ڈھنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے نہیں ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے خاص صحابی حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو نصیحت فرمائی: اِیَّاکَ وَالتَّنَعُّمَ فَاِنَّ عِبَادَ اللّٰہِ لَیْسُوْا بِالْمُتَنَعِّمِیْنَ۔ ’’یعنی مزے اڑانے سے بچنا کیوں کہ اللہ کے بندے مزے اڑانے والے نہیں ہوتے۔ ‘‘ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ بِالْیَسِیْرِ مِنَ الرَّزْقِ رَضِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِالْقَلِیْلِ مِنَ الْعَمَلِ۔ (بیہقی فی شعب الایمان)