تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بہت سے کچے ایمان والے مسلمان یہود و نصاریٰ کے طور طریق دیکھ کر ریجھتے ہیں۔ کافر و مشرک جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ان کے حال پر رشک کرنا بہت بڑی حماقت ہے۔ اللہ نے جو ہمیں ایمان کی دولت دی ہے اس نعمت کے ملنے پرخوش اور سرشار رہنا چاہیے۔ جب ایمان کی حلاوت نصیب ہوجائے اور اس کی بشاشت دل میں پیوست ہوکر رچ جائے تو پوری دنیا اور اہل دنیا مومن کی نظروں میں بے حقیقت ہوکر رہ جاتے ہیں۔ شیطان بہت بڑا دشمن ہے، وہ جانتا ہے کہ کفر و شرک کی کبھی مغفرت نہ ہوگی، اس لیے لوگوں کو کفر و شرک پر لگاتا ہے، اور مسلمانوں کے دلوں میں ایمان اور ایمانیات کے بارے میں شکوک و شبہات ڈالتا ہے، تاکہ کفر پر مر کر ہمیشہ کے لیے دوزخی ہوجائیں، جیسے نصرانیوں کو کفر و شرک پر ڈال رکھا ہے اور یہ سمجھا رکھا ہے کہ آخرت میں صرف تمہاری نجات ہوگی کیوں کہ تم حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہو۔ (العیاذ باللہ) اسی طرح شیطان نے بہت سے نام کے مسلمانوں کو شرکیہ کاموں پر لگا رکھا ہے۔ بہت سے لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں، قبروں والوں کے نام پر نذریں مانتے ہیں، ان کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں اور قبر والوں کے بارے میں عالم الغیب ہونے کا یا حاجتیں پوری کرنے کی قدرت رکھنے کا یا عالم میں تصرف کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، یہ سب شرکیہ عقائد و اعمال ہیں۔ عورتیں بہت کچے عقیدہ کی ہوتی ہیں، بہت سے شرکیہ کام کرتی ہیں، ٹوٹکے کرنا تو ان کا خاص مشغلہ ہے جو شرکیہ افعال ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنا صحیح دین سمجھائے اور شیطان سے اور اس کے وسوسوں اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)ایمان کا بہت بڑا اور اہم تقاضا سب کی خیرخواہی کرنا ہے: ۷۔ وَعَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِيَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ اَلدَّیْنُ النَّصِیْحَۃُ قُلْنَا لِمَنْ قَالَ لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلإَِئِمَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ۔ (رواہ مسلم) حضرت تمیم داریؓ روایت فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کس کی خیرخواہی؟ فرمایا، اللہ کی اور اس کی کتاب کی، اور اس کے رسول ﷺ کی اور مسلمانوں کے اماموں کی اور تمام مسلمانوں کی۔(مسلم شریف)(مشکوٰۃ المصابیح، ص ۴۲۳ عن المسلم) تشریح: ’’نصیحت‘‘ بہت جامع لفظ ہے، علماء نے لکھا ہے کہ کلام عرب میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے کہ اس کے مفہوم کو تنہا ادا کرسکے، اور اس کے معنی میں بڑی تفصیل ہے، جو ایک لفظ میں نہیں آسکتی ’’نصیحت‘‘ کا ترجمہ ’’خیرخواہی‘‘ جو ہم نے کیا ہے اس کے قریبی معنی ہیں، کسی قدر تفصیل سے اس کے معنی بیان کیے جائیں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہر شخص کے متعلق یہ کوشش کرنا کہ اس کا پورا