تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پر دعا کریں گے تو اغلب و اقرب ہے کہ فرشتہ بھی آمین کہہ دے، ان کی آمین ہماری دعا کے ساتھ لگ جائے تو قبولیت سے زیادہ قریب تر ہوجانے میں کیا شک ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ گدھے کی آواز سنو تو شیطان مردو سے اللہ کی پناہ مانگو، کیوں کہ گدھا ایسے موقع پر بولتا ہے جب کہ اسے شیطان نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطان دل میں برے وسوسے ڈالنے کے لیے اور طرح طرح کی تکلیف پہنچانے کے لیے انسانوں کے پاس آتا ہے، انسانوں کو تو نظر نہیں آتا، گدھے کو نظر آجاتا ہے۔ گدھے کی آواز انسانوں کو چونکا دیتی ہے کہ تمہارے آس پاس تمہارا دشمن ہے لہٰذا اس مردو دسے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جب رات کو کتے کی آواز سنو تب بھی شیطان مردود سے پناہ مانگو۔ اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ رات کو شیاطین پھیل پڑتے ہیں اور کتے ان کو دیکھ دیکھ کر بھونکتے ہیں۔ ہم کو حکم ہوا کہ ایسے موقعہ پر اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ لیں۔ہر مشکل کے لیے نماز پڑھی جائے : ۱۲۹۔ وَعَنْ حُذِیْفَۃَ ؓ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا حَزَبَہٗ اَمْرٌ صَلّٰی۔ (رواہ ابو داود) حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی دشواری پیش آتی تھی تو نماز پڑھنے میں مشغول ہوجاتے تھے۔ (ابوداؤد:۱/ ۱۱۸۷) تشریح: قرآن مجید میں ارشاد ہے: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط}1 (1 البقرۃ: ۱۵۳ یعنی اے ایمان والو !مدد مانگو صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ۔ جب کوئی مشکل پیش آئے، یا کسی مصیبت کا سامنا ہو تو صبر اور صلوۃ یعنی نماز کے ساتھ اللہ سے مدد مانگی جائے، صبر بہت بڑی چیز ہے۔ اس پر ثواب بھی ملتا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ جل جلالہ مصیبت بھی دور فرماتے ہیں۔ جب مومن بندہ مصیبت میں جزع و فزع اور گھبراہٹ نہیں دکھاتا اور اللہ جل جلالہ سے ہی امید باندھ کر مصیبت کے دفع ہونے کا انتظار کرتا ہے تو اللہ پاک کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور مصیبت دور کردی جاتی ہے۔ جس کو صبر کی دولت مل گئی وہ بہت بڑی دولت سے نواز ا گیا۔ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ وَمَا اَعْطیٰ اَحَدٌ عَطَآئً ہُوَ خَیْرٌ وَاَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ۔ (بخاری و مسلم) مصیبت دور کرنے کا دوسرا ذریعہ نماز ہے۔ نماز بہت بڑی چیز ہے۔ بندہ کا اللہ جل جلالہ سے خصوصی تعلق نماز کے ذریعہ پیدا ہوجاتا ہے۔ حضور اقدس ﷺ کو نماز سے بہت ہی زیادہ محبت تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں کردی گئی ہے۔ اجعلت قوۃ عینی فی الصلٰوۃ۔ (مشکوٰۃ: ص ۴۴۹) او ر آپ راتوں کو اس قدر نمازیں پڑھتے تھے کہ قدم مبارک سوج جاتے تھے۔ پھر اگر کوئی مشکل درپیش ہوجاتی تو خصوصیت کے ساتھ نماز کی طرف اور زیادہ