تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ان کے فیوض سے فیضیاب اور ان کے حسن اخلا ق سے سیراب ہوتی ہے، سخت مزا ج او رسخت زبان آدمی کے پاس کون پھٹکے گا، اور کون آئے گا؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بڑے نرم مزاج اور نرم دل اور نرم گفتار اور حلیم اور بردبار تھے۔ قرآن مجید میں آپ کو خطاب کرکے فرمایا: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاََانْفَضَّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلٰی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکَّلِیْنَo ’’سو کچھ اللہ ہی کی رحمت ہے کہ آپ ان کو نرم دل مل گئے اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشرہوجاتے، سو آپ ان کو معاف فرمادیجیے اور ان کے لیے استغفار کیجیے اور ان سے کاموں میں مشورہ لیجئے، پھر آپ رائے پختہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کیجئے، بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔ ‘‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نرم مزاجی اور نرم دلی، محبت اور الفت لانے والی ہے اور سخت مزاجی، اکھڑ پن اپنے تعلق والوں کو بھی دورکرنے والا ہوتا ہے، مومن کونرم مزاج، رحم دل ہونا چاہیے۔ فرمایا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مومن الفت والا ہوتاہے اور اس میں کوئی خیر نہیں جو الفت نہیں رکھتا اور جس سے الفت نہیں رکھی جاتی۔ (مشکوٰۃ) یہ سب حالات اور عام اوقات کے اعتبار سے فرمایا ہے۔ کبھی کبھار کہیں سختی کی بھی ضرورت پڑجاتی ہے۔ اگر موقع کے مطابق اس کو اختیار کیا جائے تو اس میں بھی اس کی خیر ہوتی ہے، اپنے بچوں اور شاگردوں کو تنبیہہ کرنے کے لیے کبھی سختی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگرعام حالات میں نرمی ہی مناسب ہوتی ہے، ہر وقت سختی کرنے سے اولاد اور شاگرد اور ماتحت سب ڈھیٹ اور باغی ہوجاتے ہیں۔غصہ سے پرہیز کرنے کی تاکید : (۱۸۷) وَعَنْ اَبِیْ ھُرِیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّ رَجُلاًَ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْصِنِیْ قَالَ لاََ تَغْضَبْ فَرَدَّدَ ذٰلِکَ مِرَارًا قَالَ لاََتَغْضَبْ۔ (رواہ البخاری) ’’حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخض نے درخواست کی کہ مجھے وصیت فرمایئے۔ آپ نے فرمایا لاتغضب یعنی غصہ نہ کیا کر، اس نے پھر یہی سوال کیا کہ مجھے کچھ وصیت فرمایئے، آپ نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر وہی عرض کیا، آپ نے پھر وہی جواب دیا۔ (غرضیکہ)اس شخص نے چند بار وہی سوال کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار وہی جواب عنایت فرماتے رہے کہ غصہ نہ کیا کر۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح، ص ۴۳۳، از بخاری)تشریح : بعض روایات میں یوں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے