تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تصویر ایک جاندار چیز ہوگی، جس کے ذریعہ بنانے والے کو اس سے عذاب ہوگا۔ (مشکوٰۃ ص ۳۸۵ عن البخاری و مسلم) نیز ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے دیکھتی ہوگی، اور دوکان ہوں گے جن سے سنتی ہوگی، اور ایک زبان ہوگی جس سے بولتی ہوگی (اور) وہ کہے گی کہ تین طرح کے لوگ میرے سپرد کیے گئے ہیں۔ (۱) ظالم ضدی، (۲) ہر وہ شخص جس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنایا۔ (۳) تصویر بنانے والے لوگ۔ (مشکوٰۃ باب التصاویر ص ۳۸۶ عن الترمذی) مسئلہ: جس چیز میں جان نہ ہو اس کی تصویر بنانا اور گھر میں رکھنا درست ہے۔ جیسے درخت وغیرہ۔ ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہے جو کفر کا شعار ہو تو بے جان کی تصویر سے بھی پرہیز لازم ہے۔ جیسے عیسائیوں کا صلیب وغیرہ۔ مسئلہ: ٹیلی ویژن استعمال کرنے سے سختی سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس کی وضع ہی تصاویر کے لیے ہے۔ تنبیہ: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ حدیث میں جس تصویر کشی کی ممانعت ہے وہ ہاتھ سے تصویر بنانے کے متعلق ہے اور کیمرہ سے جو تصویر اتاری جاتی ہے وہ چونکہ ہاتھ سے نہیں بنائی جاتی، اس لیے وہ جائز ہے، یہ خیال غلط اور فاسد ہے، شیطان کی سجھائی ہوئی دلیل ہے۔ اصل مقصد تصویر بنانے کی حرمت ہے، خواہ کسی بھی آلہ سے بنائی جائے۔ آج کل تصویریں رکھنا اور مورتیوں سے گھروں اور بنگلوں اور موٹروں کو سجانا ایک فیشن ہوگیا ہے اور تہذیب و ثقافت کا جزو بنالیا گیا ہے، آرٹ کے نام سے جہاں اور بہت سے گناہ زندگی میں داخل ہوگئے ہیں ان میں تصاویر بنانا، سجانا، دیکھنا، دکھانا بھی شامل ہے۔ جہاں کسی کے پاس چار پیسے ہوئے، بناوٹ، سجاوٹ، کیمرہ، تصویر، مورتی اور مجسمہ کی طرف متوجہ ہوا، ہزار سمجھاؤ کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہے، مگر کان دھرنے کو تیار نہیں، جب یورپ و امریکہ کو پیشوا بنالیا تو مکہ و مدینہ کا رخ کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوگی۔ یہ سیّد ہیں، یہ علوی ہیں، یہ صدیقی ہیں، یہ فاروقی ہیں، یہ عثمانی ہیں، یہ زبیری ہیں، یہ چشتی ہیں، یہ قادری، بس نام و نمود کی نسبتوں تک ہیں، معاشرہ میں اور گھر بار کی رہن سہن میں تو نصرانی معلوم ہوتے ہیں، الماری میں ایک کتارکھا ہوا ہے، موٹر کار میں گڑیا جھول رہی ہے، سامنے کسی کا فوٹو آویزاں ہے، دفتر میں کسی کا اسٹیچو رکھا ہوا ہے، اللہ کی پناہ! کیا مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں؟ جنھیں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرا پرواہ نہیں، اور جن کو رحمت کے فرشتوں سے بیر ہے ان کا گھر میں آنا پسند نہیں کرتے۔ بعض لوگ بچوں سے مرعوب ہوجاتے ہیں، اچھے خاصے نمازی ہیں، واعظ و صوفی گھرانوں میں بچوں اور بچیوں کے کھیلنے کے لیے گڑیاں اور تصویریں اور