تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
وَاعْبُدُوا اللّٰہِ وَلاََ تَشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ (سورہ نساء ع ۶) ’’اور تم اللہ کی عبادت اختیار کرو، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرنا اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔ ‘‘ سورئہ انعام میں ارشاد ہے: قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ ’’آپ فرمادیجیے کہ آئو میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو۔ ‘‘ سورئہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دے کر ان کے ساتھ تعظیم و تکریم سے پیش آنے کے لیے چند نصیحتیں فرمائی ہیں۔ اول یہ کہ ماں باپ دونوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھا ہوجائے تو ان کو اف بھی نہ کہو، مقصدیہ ہے کہ کوئی بھی ایسا کلمہ ان کی شان میں زبان سے نہ نکالو، جس سے ان کی تعظیم میں فرق آتا ہو، یا جس کلمہ سے ان کو رنج پہنچتا ہو، لفظ اف بہ طور مثال کے فرمایا ہے۔ ’’بیان القرآن‘‘ میں اردو کے محاورہ کے مطابق اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ان کو ’’ہوں‘‘ بھی مت کہو، یوں تو ماں باپ کی خدمت اور اکرام و احترام ہمیشہ ہی لازم ہے لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ اس عمر میں ماں باپ کی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، پھر بعض مرتبہ ماں باپ اس عمر میں جاکر چڑچڑے بھی ہوجاتے ہیں اور ا ن کو بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، اولاد کو ان کا اگالدان صاف کرنا پڑتا ہے، میلے اور ناپاک کپڑے دھونے پڑتے ہیں جس سے طبیعت بور ہونے لگتی ہے اور تنگ دل ہو کر الٹے سیدھے الفاظ بھی زبان سے نکلنے لگتے ہیں، ایسے موقع پر صبر اور برداشت سے کام لینا اور ماں باپ کا دل خوش رکھنا اور رنج دینے والے ذرا سے الفاظ سے بھی پرہیز کرنا بہت بڑی سعادت ہے، اگرچہ اس میں بہت سے لوگ فیل ہوجاتے ہیں۔ حضرت مجاہدؒ نے فرمایا کہ تو جو ان لوگو ں کے کپڑوں وغیرہ سے گندگی اور پیشاب پاخانہ صاف کرتا ہے تو اس موقع پر اف نہ کہہ جیسا کہ وہ بھی اف نہ کہتے تھے جب تیرے بچپن میں تیرا پیشاب پاخانہ وغیرہ دھوتے تھے۔ (درمنشور) اُف کہنے کی ممانعت کے بعد یہ پھر فرمایاکہ ان کو مت جھڑکو، جھڑکنا اف کہنے سے بھی زیادہ برا ہے، جب اف کہنا منع ہے تو جھڑکنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ پھر بھی واضح فرمانے کے لیے خاص طور سے جھڑکنے کی صاف اور واضح لفظوں میں ممانعت فرمائی ہے۔ دوم یہ حکم فرمایا کہ: وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلاًَ کَرِیْمًا ماں باپ سے خوب ادب سے بات کرنا، اچھی باتیں کرنا، لب و لہجہ میں نرمی اور الفاظ میں توقیر و تکریم کا خیال رکھنا، یہ سب قولاً کریماً میں داخل ہیں اور اس کی تفسیر میں بعض اکابر نے فرمایا کہ اِذَا دَعَوَاکَ فَقُلْ لَیَّبْکُمَا وَسَعْدَیْکُمَا یعنی جب ماں باپ تجھے بلائیں تو کہنا کہ میں حاضر