تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
فضیلت معلوم ہوئی، جب ایک شخص نے ماں باپ کے حقوق کے بارے میں سوال کیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (مختصر طریقہ پر یہ سمجھ لے) کہ وہ دونوں تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں، یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہو اور ان کی خدمت کرتے رہو اور ا ن کی فرمانبرداری میں لگے رہو، تمہارا یہ عمل جنت میں جانے کا سبب بنے گا۔ اور اگر تم نے ان کو ستایا، تکلیف دی، نافرمانی کی، تو تمہارا یہ عمل دوزخ میں جانے کا سبب بنے گا، اس سے سمجھ لو کہ ان کا حق کس قدر ہے، اوران کے ساتھ کس طرح زندگی گزارنا چاہیے، قرآن مجید میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت اور اکرام و احترام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدِیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا َیبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبْرِ اَحَدُھُمَا اَوْکِلٰھُمَا فَلاََ تَقُلْ لَّھُمَا اُفِّ وَّلاََ تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلاًَ کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (سورہ بنی اسرائیل ع ۳) ’’اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، سو ان کو کبھی ’’ہوں‘‘ بھی مت کہنا، اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار !ا ن دونوں پر رحمت فرمایئے جیسا کہ انھوں نے مجھ کو بچپن میں پالا ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں حق سبحا نہ تعالیٰ نے اول تو حکم فرمایا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، شرائع انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا سب سے بڑا یہی حکم ہے اور اسی حکم کی تعلیم کرانے کے لیے اللہ جل شانہٗ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو بھیجا اور کتابیں نازل فرمائیں اور صحیفے اتارے، اللہ جل شانہٗ کو عقیدہ سے ایک ماننا اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور کسی بھی چیز کو اس کی ذات و صفات اور تعظیم و عبادت میں شریک نہ کرنا خداوند قدوس کا سب سے بڑا حکم ہے۔ دوم یہ فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اللہ جل شانہٗ خالق ہے، اس نے سب کو وجود بخشا ہے، اسی کی عبادت اور شکر گزاری بہرحال فرض او رلازم ہے اور اس نے چونکہ انسانوں کو وجود بخشنے کا ذریعہ ان کے ماں باپ کو بنایا ہے اور ماں باپ ان کی پرورش میں بہت کچھ دکھ تکلیف اٹھاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا بھی حکم فرمایا، جو قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکورہے، سورئہ بقرہ میں ارشاد ہے: وَاِذْاَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ لاََ تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ (سورہ بقرہ ع ۱۰) ’’اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے قول و قرارلیا، کہ (کسی کی) عبادت مت کرنا بجز اللہ کے، اور ماں باپ کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آنا۔ ‘‘ اور سورئہ نساء میں ارشاد ہے: