تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تو کتنے دن سوگ کیا جاسکتا ہے؟ حدیث بالا میں اس سوال کا جواب دیا ہے کہ شوہر کے علاوہ دوسرے کسی عزیز قریب (بیٹا، باپ وغیرہ) کی موت پر بھی عورت کو سوگ کرنے کی اجازت ہے لیکن صرف تین دن تین رات تک سوگ کرسکتی ہے۔ اس سے زیادہ سوگ کرنا حلال نہیں ہے، جیسا کہ حدیث بالا سے بالکل واضح ہورہا ہے۔ حضرت ام حبیبہؓ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے تھیں، ان کے والد حضرت ابوسفیانؓ تھے جب ان کی وفات کی خبر سنی تو حضرت ام حبیبہؓ نے دو دن کوئی خوشبو نہ لگائی، پھر تیسرے دن خوشبو منگا کر لگائی اور ارشاد فرمایا کہ مجھے اس وقت خوشبولگانے کی بالکل کوئی ضرورت نہ تھی۔ لیکن حدیث کی وعید سے بچنے کے لیے خوشبو استعمال کی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ خوشبو نہ لگانا سوگ میں شامل ہوجائے اور یہ سوگ تین دن سے آگے بڑھ جائے اس لیے تین دن پورے ہونے سے پہلے ہی خوشبو لگالی تاکہ گناہ کا احتمال ہی نہ رہے۔ ایسا ہی واقعہ حضرت زینب بنت حجشؓ کو پیش آیا، یہ بھی ازواج مطہرات میں سے تھیں، جب ان کے بھائی کی موت کی خبر آئی تو انھوں نے خوشبو منگا کر لگائی اور اسی حدیث کی روایت کی جو حدیث حضرت ام حبیبہؓ نے اپنے والد کی موت کے بعد (تیسرے دن) خوشبو لگا کر سنائی۔ جن حضرات نے حدیث کی تشریحات لکھی ہیں انھوں نے فرمایا ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ نے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی دوسرے عزیز کی موت پر بھی سوگ کرنا جائز ہے۔ یعنی واجب تو نہیں ہے جس کے ترک سے گناہ ہولیکن طبعی طور پر چونکہ عورت کو رنج زیادہ ہوتا ہے اس لیے اسے اجازت دی گئی کہ تین دن تک بنائو سنگھار نہ کرے تو ایسا کرسکتی ہے۔ البتہ تین دن کے بعد شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی موت پر سوگ کرے گی تو گناہ گار ہوگی یہ تین دن والی اجازت بھی عورتوں کے لیے ہے، مردوں کو سوگ کرنے کی اجازت کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ آج کل ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ عمل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال و اقوال کو سامنے نہیں رکھا جاتا بلکہ رواج اورطبیعت کے تقاضوں پرچلتی ہیں۔ رنج و غم سوگ وغیرہ کے سلسلے میں بھی خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیاں ہوتی ہیں، شوہر کی موت پر سوگ کے لیے کہا جاتا ہے تو اس کو برا مانتی ہیں بلکہ عدت کے زمانہ میں گھر میں رہنے کی شرعی پابندی کی بھی خلاف ورزی کرتی ہیں اور خود سے سوگ کرنے میں آئیں تو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی موت پر ہفتوں سوگ کرلیں، دینی احکام کو پس پشت ڈالنے کا یہ مزاج بہت برا ہے، اس کی وجہ سے گناہوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے، اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اسلام کے حکموں پر مرمٹنے کی توفیق دے۔ یہ سوگ کا سلسلہ محرم کے مہینے میں بڑا زور پکڑتا ہے۔ شیعوں کی دیکھا دیکھی بہت سے سنی ہونے کے دعویدار بھی محرم میں سوگوار بن جاتے ہیں۔ اس ماہ میں اور خصوصاً شروع کے دس دنوں میں میاں بیوی والی محبت ترک کردیتے ہیں،