تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سورئہ نور میں توبہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّھَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo ’’اور مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پائو۔ ‘‘ سورئہ تحریم کے آخری رکوع میں ارشاد فرمایا: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃُ نَصُوْحًاo عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکِمْ سَیّٰاتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ َتحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یَوْمَ لاََیُخْزِیَ اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ۔ ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے آگے سچی توبہ کرو کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا۔ ‘‘ ان کے علاوہ متعدد آیات میں توبہ کا حکم اور توبہ کرنے والوں کی تعریف مذکور ہے۔ گناہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ، تعداد میں زیادہ ہوں یا کم، سب زہر قاتل ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ جیسے ہی کوئی گناہ ہوجائے سچے دل سے توبہ کی جائے، صغیرہ گناہ تو نیکیوں کے ذریعہ بھی معاف ہوتے رہتے ہیں، لیکن کبیرہ گناہ صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں، یوں اللہ تعالیٰ کو سب اختیار ہے کہ بغیر توبہ بھی سب معاف فرمادے، لیکن یقینی طور پر معاف ہونے کے لیے توبہ کرنا لازم ہے، جب سچے دل سے توبہ کے طریقہ کے مطابق توبہ کرلی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صرف زبان سے توبہ توبہ کرنے سے توبہ نہیں ہوتی، توبہ تین چیزوں کا نام ہے۔ اول: جو گناہ ہوچکا اس پر نہایت سچے دل سے شرمندہ اور پشیمان اور نادم ہونا، اپنی حقیر ذات کو دیکھنا اور اللہ جل شانہٗ جو احکم الحاکمین ہیں اور ساری کائنات کے خالق و مالک ہیں، ان کی ذات رفیع کی طرف نظر کرنا کہ ہائے ہائے مجھ جیسے حقیر اور ذلیل سے ایسی ذات پاک کی نافرمانی ہوگئی جو سب سے بڑا ہے، سب کو پیدا کرنے والا ہے۔ دوم: نہایت پختہ عزم کے ساتھ یہ طے کرلینا کہ اب آئندہ کبھی بھی کوئی گناہ نہیں کروں گی / کروں گا۔ سوم: جو چیزیں حقوق اللہ میں سے یا حقوق العباد سے قابل تلافی ہوں ان کی تلافی کرنا، اور یہ بات بہت اہم ہے، بہت سے لوگ توبہ کرتے ہیں، لیکن توبہ کے اس تیسرے جزو کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ حقوق اللہ کی تلافی کا مطلب یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد سے جن فرائض کو ترک کیا ہو اور جن واجبات کو چھوڑا ہو ان کی ادائیگی کرے، مثلاً حساب لگائے کہ جب سے میں بالغ ہوں میری کتنی نمازیں چھوٹی ہوئی ہیں، ان نمازوں کا اس قدر اندازہ لگے کہ دل گواہی دے کہ اس سے زیادہ نہیں ہوں گی، پھر ان نمازوں کی قضا پڑھے، قضا نماز کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، بس یہ دیکھ لے کہ سورج نکلتا، چھپتا نہ ہو