تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہے۔ اس کے لیے کسی چیز کا دینا اور کسی بھی چیز کا پیدا کردینا کوئی بھاری چیز نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رغبت اور اس یقین کے ساتھ دعا کرو کہ میرا مقصد ضرورپورا ہوگا اور وہ جب دے گا اپنی مشیت اور ارادہ ہی سے دے گا۔ اس سے زبردستی کوئی کچھ نہیں لے سکتا۔ کما ورد فی روایۃ اخری انہ یفعل ما یشاء ولا مکرہ لہ۔ (رواہ البخاری) ۱۰۲۔ وَعَنْ سَلْمَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ رَبَّکُمْ حَیَّیٌ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ مِنْ عَبْدِہٖ اِذَ ا رَفَعَ یَدَیْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا۔ (رواہ الترمذی) حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ تمہارا رب شرم کرنے والا ہے، کریم ہے، جب اس کا بندہ دعا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو ان کو خالی واپس کرتا ہوا شرماتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ص ۱۹۵ بحوالہ ترمذی) ۱۰۳۔ وَعَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا رَفَعَ یَدَیْہِ فِی الدُّعَائِ لَمْ یَحَطَّھُمَا حَتّٰی یَمْسَحَ بِھِمَا وَجْھَہٗ۔ (رواہ الترمذی) حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے تو ان کو جب تک (ختم دعا کے بعد) چہرہ پر نہ پھیرلیتے تھے (نیچے) نہیں گراتے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ص ۱۹۵ بحوالہ ترمذی) تشریح: ان دونوں حدیثوں میں دعا کا ایک اہم ادب بتایا ہے وہ یہ کہ دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھائے جائیں اور ختم دعا کے بعد دونوں ہاتھ منہ پر پھیرلیے جائیں۔ دونوں ہاتھوں کو اٹھانا سوال کرنے والے کی صورت بنانے کے لیے ہے تاکہ باطنی طور پر دل سے جو دعا ہورہی ہے اس کے ساتھ ظاہری اعضاء بھی سوال میں شریک ہوجائیں۔ دونوں ہاتھ پھیلانا فقیر کی جھولی کی طرح ہے جس میں حاجت مندی کا پورا اظہار ہے اور ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں تو ان کا رخ آسمان کی طرف ہوجاتا ہے۔ جس طرح کعبہ نماز کا قبلہ ہے اسی طرح آسمان دعا کا قبلہ ہے۔ ہاتھ اٹھانے کے بعد دعا کے ختم پر ہاتھوں کو منہ پر پھیرنا گویا دعا کی قبولیت اور رحمت خداوندی کے نازل ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت خداوندی میرے چہرے سے شروع ہوکر مجھے مکمل طریقے پر گھیر رہی ہے۔ مذکورہ احادیث شریفہ سے دعا کے بعض آداب معلوم ہوئے ہیں۔ تفصیل کے ساتھ علامہ جزری ؒ نے اپنی کتاب الحصن الحصین میں بہت سے آداب جمع کیے جو مختلف احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ ہم ان کو تفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ۱۔ باوضو ہونا۔ ۲۔ پہلے اللہ کی حمد و ثناء کرنا اور اس کے اسماء حسنیٰ اور صفات کاملہ کا واسطہ دینا۔ ۳۔ پھر درود شریف پڑھنا۔ ۴۔ قبلہ رخ ہونا۔ ۵۔ خلوص دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور یہ یقین رکھنا کہ صرف اللہ جل جلالہ ہی دعا قبول کرسکتا ہے۔ ۶۔ پاک و صاف ہونا۔