تحفہ خواتین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ اے اللہ! سیدنا محمد ﷺ کو قیامت کے روز اپنے نزدیک مقام میں نازل کیجئو، تو اس کے لیے میری شفاعت ضرور ہوگی۔ (رواہ احمد کما فی المشکٰوۃ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے بہت سے فرشتے زمین میں گشت لگاتے پھرتے ہیں اور ان کا کام یہ ہے کہ میری امت کا سلام مجھ تک پہنچا دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ عن النسائی والدارمی) حضرت ابوطلحہؓ کا بیان ہے کہ ایک روز رسول خدا ﷺ (صحابہ کے مجمع میں) اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کے چہرۂ انور پر خوشی ظاہر ہورہی تھی (مجمع میں پہنچ کر) فرمایا کہ جبرئیل ؑ میرے پاس آئے اور انھوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کیا تم کو یہ بات خوش نہ کرے گی کہ تمہاری امت میں سے جو شخص تم پر درود بھیجے گا میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور جو شخص تمہاری امت میں سے تم پر سلام بھیجے گا تو میں اس پر دس سلام بھیجوں گا۔ (ایضاً) لہٰذا اگر کوئی شخص حضرت محمد مصطفی ﷺ پر درود بھیجتے ہوئے صلوۃ والسلام کو ملا لے تو اس پر خدائے تعالیٰ کی بیس عنایتیں ہوں گی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر ایک مرتبہ درود شریف بھیجے گا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ رحمت بھیجیں گے۔ (کذا فی المشکوٰۃ فی احمد و ہوفی حکم المرفوع) ملا علی قاری ؒ مرقات شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ (یعنی ستر رحمتیں ایک مرتبہ درود کے صلہ میں مل جانا) جمعہ کے روز کے ساتھ مخصوص ہو (اس روز کی عظمت فضیلت کی وجہ سے ثواب بڑھا دیا جاتا ہو اور بجائے دس کے ستر رحمتیں نازل ہوتی ہوں)۔ واللہ اعلم حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کامل بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔ (رواہ الترمذی وقال حسن غریب صحیح) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ظلم کی بات ہے کہ میں کسی کے سامنے ذکر کیا جاؤں اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (کنزالعمال عن عبدالرزاق وہو عن محمد بن علی مرسلا) حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان لٹکی رہتی ہے، ذرا بھی آگے نہیں چڑھتی جب تک تو اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی) اور حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا کہ ہر دعا اٹکی ہوئی ہے جب تک تو اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے۔ (کنزالعمال عن البیہقی فی شعب الایمان) ان روایات سے درود شریف کی چند فضیلتیں معلوم ہوئیں، مومن بندوں کو چاہیے کہ صلوٰۃ والسلام کی بھی خوب کثرت کریں۔