فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
اور آپ ﷺ کا مقصدِ اصلی تھا۔ اور اِسی مقصد کی نَشو نُما اور آبیاری کے لیے ہزاروں نبی اور رسول بھیجے گئے، ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ إلَّانُوْحِيْ إلَیْہِ أَنَّہٗ لَا إلٰہَ إلَّا أنَا فَاعْبُدُوْنِ﴾ترجَمہ:اور ہم نے نہیں بھیجا تم سے پہلے کوئی رسول؛ مگر اُس کی جانب یہی وحی بھیجتے تھے کہ: کوئی معبود نہیں بہ جُز میرے، پس میری بندگی کرو۔ نبیٔ کریم ﷺ کی حیاتِ طَیِّبہ اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کے مُقدَّس لمحاتِ زندگی پر جب نظر ڈالی جاتی ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ سب کا مقصد اور نَصْبُ العَین صرف ایک ہے، اور وہ اللہ رَبُّ الْعَالَمِینَ وَحدَہٗ لَا شَرِیكَ لَہٗ کی ذات وصفات کا یقین کرنا۔ یہی ایمان اور اسلام کامفہوم ہے، اور اِسی لیے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا، ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإنْسَ إلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾یعنی: ہم نے جِنَّات اور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ بندہ بن کر زندگی بسر کریں۔ ہم نے اپنی نارسا فَہم کے مطابق مسلمانوں کی فَلاح وبَہبود کے لیے ایک نظامِ عمل تَجوِیز کیا ہے، جس کو فِی الحقیقت ’’اسلامی زندگی‘‘ یا ’’اَسلاف کی زندگی کا نمونہ‘‘ کہاجاسکتا ہے، جس کا اِجمالی نقشہ آپ کی خدمت میں پیش ہے: سب سے اہم اور پہلی چیز یہ ہے کہ، ہرمسلمان تمام اَغراض ومَقاصِدِ دُنیوی سے قَطع نظر کرکے اِعلائے کَلِمۃُ اللہ اوراِشاعتِ اسلام اور احکامِ خداوندی کے رِواج اور سرسبزی کو اپنا نَصبُ العَین بناوے، اور اِس بات کا پختہ عَہد کرے کہ، حق تعالیٰ کے ہر حکم کو مانوںگا، اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش کروںگا، اور کبھی خداوندِ کریم کی نافرمانی نہ کروںگا، اور اِس نَصبُ العَین کی تکمیل کے لیے اِس دَستورُ العَمل پر کاربند ہو: (۱)کلمۂ لَا إلٰہَ إلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کاصحتِ الفاظ کے ساتھ یاد کرنا، اور اِس کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھنا، اور ذَہن نشین کرنے کی کوشش کرنا، اور اپنی پوری زندگی کو اُس کے موافق بنانے کی فکر کرنا۔ (۲)نماز کاپابند ہونا، اُس کے آداب وشَرائط کا لِحاظ رکھتے ہوئے خُشوع اور خُضُوع کے ساتھ ادا کرنا، اور پھر ہر رکن میں خدا وندِ کریم کی عَظمت وبزرگی اور اپنی بندگی اور بے چارگی کا دھیان کرنا؛ غرض اِس کوشش میں لگے رہنا کہ نماز اِس طرح اداہو جو اُس ربُّ العِزَّت کی بارگاہ کی حاضری کے شایانِ شان ہو۔ ایسی نماز کی کوشش کرتا رہے اور حق تعالیٰ سے توفیق طلب کرے، اگر نماز کاطریقہ معلوم نہ ہو تو اُس کو سیکھے، اور نماز میں پڑھنے کی تمام چیزوں کو یاد کرے۔ (۲)قرآن کریم کے ساتھ وابَستگِی اور دِل بَستگِی پیدا کرنا، جس کے دوطریقے ہیں: