فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
(۱۳) عَن ابنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِﷺ: لَیسَ عَلیٰ أَهلِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحشَۃٌ فِي قُبُورِهِم وَلَا مَنشَرِهِم، وَکَأَنِّيْ أَنظُرُ إِلیٰ أَهلِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَهُم یَنفُضُونَ التُّرَابَ عَن رُؤُسِهِمْ، وَیَقُولُونَ: اَلحَمدُلِلّٰہِ الَّذِي أَذهَبَ عَنَّا الحَزَنَ. وفي روایۃ: لَیسَ عَلیٰ أَهلِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحشَۃٌ عِندَ المَوتِ وَلَاعِندَ القَبرِ. (رواہ الطبراني والبیهقي؛ کلاهما من روایۃ یحییٰ بن عبدالحمید الحماني، وفي متنہ نکارۃ؛ کذا في الترغیب. وذکرہ في الجامع الصغیر بروایۃ الطبراني عن ابن عمر، ورقم لہ بالضعف. وفي أسنی المطالب: رواہ الطبراني وأبو یعلیٰ بسند ضعیف، وفي مجمع الزوائد: رواہ الطبراني، وفي روایۃ: ’’لَیسَ عَلیٰ أَهلِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحشَۃٌ عِندَ المَوتِ وَلَاعِندَ القَبرِ‘‘، في الأولیٰ یحییٰ الحماني، وفي الأخریٰ مجاشع بن عمر؛ وکلاهما ضعیف. اھ وقال السخاوي في المقاصد الحسنۃ: رواہ أبویعلیٰ والبیهقي في الشعب، والطبراني بسند ضعیف عن ابن عمر اھ. قلت: وما حکم علیہ المنذري بالنکارۃ مبناہ أنہ حمل أهل لا إلہ إلا اللہ علی الظاهر علیٰ کل مسلم، ومعلوم أن بعض المسلمین یُعذَّبون في القبر والحشر، فیکون الحدیث مخالفا للمعروف، فیکون منکرا؛ لکنہ إن أرید بہ المخصوص بهذہ الصفۃ فیکون موافقاً للنصوص الکثیرۃ من القراٰن والحدیث: ﴿فَالسَّابِقُونَ السَّابِقُوْنَ أُولٰئِکَ المُقَرَّبُوْنَ﴾، ﴿وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللہِ﴾، وَسَبْعُوْنَ أَلْفاً یَدخُلُونَ الجَنَّۃَ بِغَیرِ حِسَابٍ؛ وغیر ذلك من الاٰیات والروایات؛ فالحدیث موافق لها لامخالف، فیکون معروفا لامنکرا. وذکر السیوطي في الجامع الصغیر بروایۃ ابن مردویہ، والبیهقي في البعث عن عمر بلفظ: ’’سَابِقُنَا سَابِقٌ، وَمُقتَصِدُنَا نَاجٍ، وَظَالِمُنَا مَغفُورٌ لَہٗ‘‘، ورقم لہ بالحسن، قلت: ویؤیدہ حدیث: ’’سَبَقَ المُفَرِّدُونَ المُسْتَهْتِرُ ونَ فِي ذِکرِ اللہِ، یَضَعُ الذِّکرُ عَنهُم أَثقَالَهُم، فَیَأْتُونَ یَومَ القِیَامَۃِ خِفَافاً‘‘، رواہ الترمذي والحاکم عن أبي هریرۃ، والطبراني عن أبي الدرداء؛ کذا في الجامع، ورقم لہ بالصحۃ. وفي الاتحاف عن أبيالدرداء موقوفا: اَلَّذِینَ لَاتَزَالُ أَلسِنَتُهُم رَطَبَۃً مِن ذِکرِ اللہِ یَدخُلُونَ الجَنَّۃَ وَهُم یَضحَکُونَ. وفي الجامع الصغیر بروایۃ الحاکم، ورقم لہ بالصحۃ: اَلسَّابِقُ المُقتَصِدُ یَدخُلَانِ الجَنَّۃَ بِغَیرِ حِسَابٍ، وَالظَّالِمُ لِنَفسِہٖ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَسِیراً ثُمَّ یُدخَلُ الجَنَّۃَ) ترجَمہ:حضورِ اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ والوں پرنہ قبروں میں وَحشت ہے نہ میدانِ حشر میں، اِس وقت گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ جب وہ اپنے سَروں سے مِٹی جھاڑتے ہوئے (قبروں سے)اُٹھیںگے، اور کہیںگے کہ: تمام تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے (ہمیشہ کے لیے) رَنج وغم دور کردیا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ والوں پر نہ موت کے وقت وَحشت ہوگی نہ قبر کے وقت۔ وَحشت: گھبراہٹ۔ بھید: پوشیدہ باتیں۔ اِظہارِ شَرافت: بزرگی کو ظاہر کرنا۔ مَقبَرے: قبرستان۔ کَیری: نیلا یا فاختہ رنگ۔ بِکری: تجارت۔ فائدہ: حضرت ابنِ عباس ص فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ حضرت جبرئیل ں حضورِ اقدس ﷺکے پاس تشریف لائے، حضورﷺ نہایت غمگین تھے، حضرت جبرئیلں نے عرض کیا کہ: اللہ دنے آپ کو سلام فرمایا ہے، اور ارشاد فرمایا کہ: آپ کو رنجیدہ اور غمگین دیکھ رہا ہوں،یہ کیا بات ہے؟ (حالاںکہ حق تَعَالیٰ شَانُہٗدِلوں کے بھید جاننے والے ہیں؛ لیکن اِکرام واِعزاز اور اِظہارِ شَرافت کے واسطے اِس قِسم کے سوال کرائے جاتے تھے) حضور ﷺ نے اِرشاد فرمایا کہ: جبرئیل! مجھے اپنی اُمَّت کا فکر بہت بڑھ رہا ہے، کہ قِیامت میں اُن کا کیا حال ہوگا؟ حضرت جبرئیلں نے دریافت کیا کہ: کُفَّار کے بارے میں یا مسلمانوں کے بارے میں؟ حضورﷺنے اِرشاد فرمایا کہ: مسلمانوں کے بارے میں فکر ہے، حضرت جبرئیلںنے حضورﷺ کو ساتھ لیا اور ایک مَقبَرے پر تشریف لے گئے، جہاں قبیلۂ بنو سلمہ کے لوگ دفن تھے، حضرت جبرئیلں نے ایک قبر پر ایک پَر مارا اور ارشاد فرمایا کہ: قُمْ بِإِذنِ اللہِ: (اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا)،اُس قبر سے ایک شخص نہایت حَسِین، خوب صورت چہرے والا اُٹھا،