فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
وَالسَّلَامِ- سے نقل کی گئی، دوسری فصل میں اُن آیات کا حوالہ ہے جن میں کلمۂ طیبہ پورا یعنی لَاإلٰہَ إِلَّا اللہُ تمام کا تمام ذکر کیا گیا ہے، یا کسی معمولی تغیُّر کے ساتھ، جیسے: لَا إِلٰہَ إلَّا ہُو، اور چوںکہ اُن میں یہ کلمہ خود ہی موجود ہے یا اُس کاترجَمہ دوسرے الفاظ سے کیا گیا ہے؛ اِس لیے اُن آیات کے ترجَمے کی ضرورت نہیں سمجھی، صرف حوالۂ سورت اور رکوع پر اِکتفا کیا گیا، اور تیسری فصل میں اُن احادیث کا ترجَمہ اور مطلب ذکر کیا گیا جن میں اِس پاک کلمے کی ترغیب اور حکم فرمایا گیا۔ وَمَاتَوْفِیقِيْ إِلَّا بِاللّٰہِ. فصلِ اوّل اُن آیات میں جن میں لفظ کلمۂ طیبہ کا نہیں ہے اور مراد کلمۂ طیبہ ہے: (۱) أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرۃٍ طَیِّبَۃٍ، أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِيْ السَّمَائِ، تُؤْتِيْ أُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا، وَیَضْرِبُ اللہُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ. وَمَثلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَہَا مِن قَرَارٍ. [إبراہیم، ع:۴] ترجَمہ: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی اچھی مثال بیان فرمائی ہے کلمۂ طیبہ کی؟ کہ وہ مُشابَہ ہے ایک عمدہ پاکیزہ درخت کے، جس کی جڑ زمین کے اندر گَڑی ہوئی ہو اور اُس کی شاخیں اوپر آسمان کی طرف جارہی ہوں، اور وہ درخت اللہ کے حکم سے ہر فَصل میں پھل دیتا ہو(یعنی خوب پھلتاہو)، اور اللہ تعالیٰ مثالیں اِس لیے بیان فرماتے ہیں؛ تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں، اور خبیث کلمہ (یعنی کلمۂ کفر)کی مثال ہے جیسے ایک خراب درخت ہو، کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اُکھاڑ لیا جاوے، اور اُس کو زمین میں کچھ ثُبات نہ ہو۔ فَصل: موسم۔ ثُبات: جماؤ۔اِعتِدال: برابری۔ بِچْلا: بہکانا۔ فائدہ:حضرت ابنِ عباسص فرماتے ہیں کہ: کلمۂ طیبہ سے کلمۂ شہادت: أَشْہَدُ أَنْ لَاإلٰہَ إِلَّااللہُ مراد ہے، جس کی جڑ مومن کے قول میں ہے اور اُس کی شاخیں آسمان میں، کہ اِس کی وجہ سے مومن کے اعمال آسمان تک جاتے ہیں، اور کلمۂ خبیثہ شِرک ہے، کہ اِس کے ساتھ کوئی عمل قَبول نہیں ہوتا۔(تفسیر ابن جریر،۷؍۴۳۷،حدیث:۲۰۶۵۹) ایک دوسری حدیث میں ابنِ عباسص فرماتے ہیں کہ: ہر وقت پھل دینے کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ کو دن رات ہر وقت یاد کرتا ہو۔(تفسیر طبری،۷؍۴۴۱،حدیث:۲۰۷۰۰) حضرت قَتادہ تابعیؒ نقل کرتے ہیں کہ: حضورِ اقدس ﷺ سے کسی نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ! یہ مال دار (صدقات کی بہ دولت) سارا ثواب اُڑا لے گئے، حضور ﷺنے فرمایا: بھلا بتا تو سَہی! اگر کوئی شخص سامان کو اوپر نیچے رکھتا چلا جائے تو کیا آسمان پرچڑھ جائے گا؟ مَیں تجھے ایسی چیز بتاؤں جس کی جڑ زمین میں ہو اور شاخیں آسمان پر؟ ہر نماز کے بعد لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکبَرُ وَسُبحَانَ اللہِ وَالحَمْدُلِلّٰہِ دس دس مرتبہ پڑھاکر، اِس کی جڑزمین میں ہے اور شاخیں