فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ترجَمہ:(سمجھ دار لوگ جو اللہ کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں اور قدرت کے کارناموں میں غورو فکر کرتے رہتے ہیں) یہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! آپ نے یہ سب بے فائدہ پیدا نہیں کیا ہے (بلکہ بڑی حکمتیں ہیں)،آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہم آپ کی تسبیح کرتے ہیں، آپ ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچادیجیے۔ (۵)سُبْحَانَہٗ أَن یَّکُونَ لَہٗ وَلَدٌ.[النساء، ع:۲۳] ترجَمہ:وہ ذات اس سے پاک ہے کہ اُس کے اولاد ہو۔ (۶)قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُونُ لِيْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْسَ لِيْ بِحَقٍّ.[المائدۃ،ع:۱۶] ترجَمہ:(قِیامت میں جب حضرت عیسیٰ عَلیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ السَّلَامُ سے سوال ہوگا کہ: اپنی اُمَّت کو تَثلِیث کی تعلیم کیا تم نے دی تھی؟ تو)وہ کہیں گے:(توبہ توبہ)!مَیں تو آپ کو (شِرک سے اور ہرعیب سے) پاک سمجھتاہوں، مَیں ایسی بات کیسے کہتا جس کے کہنے کامجھ کو کوئی حق نہیں تھا۔ (۷) سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ عَمَّایَصِفُوْنَ.[الأنعام، ع:۱۲] ترجَمہ:اللہ د (اُن سب باتوں سے)پاک ہے جن کو (یہ کافر لوگ)اللہ کی شان میں کہتے ہیں، (کہ: اُس کے اولاد ہے، یا شریک ہے، وغیرہ وغیرہ۔) (۸) فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ، تُبْتُ إِلَیْکَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ.[الأعراف، ع:۱۷] ترجَمہ:(جب طُور پر حق تَعَالیٰ شَانُہٗ کی ایک تَجلی سے حضرت موسیٰ عَلیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ السَّلَامُ بے ہوش ہوکر گِرگئے تھے،)پھر جب اِفاقہ ہوا تو عرض کیا کہ: بے شک آپ کی ذات (اِن آنکھوں کے دیکھنے سے اور ہرعیب سے)پاک ہیں، مَیں(دِیدار کی درخواست سے)توبہ کرتاہوں اور سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ اِفاقہ: ہوش۔ اِزالہ: ختم ہونا۔ دِقَّتوں: تکلفیں۔ خَلاصی: چھُٹکارا۔ تجویز: متعیَّن۔ (۹)إِنَّ الَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ لَا یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیُسَبِّحُونَہٗ وَلَہٗ یَسْجُدُونَ. [الأعراف، ع:۲۴] ترجَمہ:بے شک جو اللہ کے مُقرَّب ہیں (یعنی فرشتے)، وہ اُس کی عبادت سے تکبُّر نہیں کرتے، اور اُس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اُسی کو سجدہ کرتے رہتے ہیں۔ فائدہ: صوفیا نے لکھا ہے کہ: آیت میں تکبُّر کی نفی کو مُقدَّم کرنے میں اِس طرف اشارہ ہے کہ تکبُّر کا اِزالہ عبادات پر اِہتِمام کاذریعہ ہے، اور تکبر سے عبادات میں کوتاہی واقع ہوتی ہے۔ (۱۰) سُبْحَانَہٗ عَمَّایُشرِکُونَ.[التوبۃ،ع:۵] ترجَمہ:اُس کی ذات پاک ہے اُن چیزوں سے جن کو وہ (کافر اُس کا) شریک بناتے ہیں۔ (۱۱) دَعْوَاہُمْ فِیْهَا سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَتَحِیَّتُہُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ، وَاٰخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.[یونس،ع:۱] ترجَمہ:(اُن جنتیوں کے )منھ سے یہ بات نکلے گی: سُبحَانَكَ اللّٰہُمَّ، اور آپس کا اُن کا سلام ہوگا: اَلسَّلَامُ(عَلَیْکُمْ، اور جب دنیا کی دِقَّتوں کو یاد کریںگے اورخَیال کریںگے کہ اب ہمیشہ کے لیے اُن سے خَلاصی ہوگئی تو) آخر میں کہیںگے: اَلحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ. (۱۲)سُبحَانَہٗ وَتَعَالیٰ عَمَّایُشرِکُونَ.[یونس، ع: ۱]